حضرت امام جواد(ع) كی شہادت كے دن حرم مطہر رضوی میں عزاداری كی مجالس منعقدہوئیں

IQNA

حضرت امام جواد(ع) كی شہادت كے دن حرم مطہر رضوی میں عزاداری كی مجالس منعقدہوئیں

حضرت امام جواد علیہ السلام كی شہادت كے دن ہزاروں زائرين كی موجودگی میں حرم مطہر رضوی میں سوگواری وعزاداری كی مجالس منعقدہوئیں.
آستان قدس رضوی كی خبر رساں ايجنسی كی رپورٹ كے مطابق حضرت امام جواد علیہ السلام كی شہادت كے دن حضرات اہلبيت عصمت و طہارت علیہم السلام كے ہزاروں زائرين كی موجودگی میں حرم مطہر رضوی كے رواق امام خمينیؒ میں سوگواری اور عزاداری كی مجلس صبح ۹ بجے قرآن مجيد كی تلاوت سے شروع ہوئی۔
اس پروگرام كے تسلسل میں ذاكرين اہلبيت(ع) نے حضرت امام جواد علیہ السلام كی مظلوميت كو بيان كيا۔

حضرت امام جواد علیہ السلام كی امامت كے زير سایہ تشيع كاپختہ عقيدہ
مشہد مقدس كے محترم امام جمعہ نے اس پروگرام میں خطاب كے دوران تأكيد كی: حضرت امام جواد علیہ السلام كی امامت اور ولايت كے زير سایہ تشيع كے حقيقی اعتقاد ات پر اعتماد كی بنياد اور يقين محقق ہونا شروع ہوا۔
آيت اللہ سيد احمد علم الہدیٰ نے امامت اور ولايت كے باب میں بيان ہونے والے نادرست عقائدكا ذكر كيا اور كہا:بعض لوگ امامت كے موضوع كو ايك سياسی مسئلہ جانتے ہیں جو پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی رحلت اورحضرت صديقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا كی جانب سے اپنے حق كے مطالبےكے بعداختلافات اور امت مسلمہ میں سياسی نزاع كےاندرسے پيداہواہو۔
انہوں نے اظہار كيا:بعض لوگ خاص طور پر وہابی اور تكفيری گروہ امامت كےعقيدےكو ثقافتی اورجذباتی مسائل كا تسلسل جانتے ہیں جو ايرانی لوگوں كے سلطنت سے متعلق نظريات سے پيداہوا ہو اور یہ باطل افكار نہايت قابل افسوس ہیں۔
مجلس خبرگان كے ركن نے كہا:تشيع میں امامت ايك ايسا عقيدتی مسئلہ ہے جو قرآن مجيد كی اعلیٰ اور خالص تعليمات كی روشنی میں ہے اور اس مسئلے پر عقيدہ ركھنا قرآن مجيد كی تعليمات كو عملی جامہ پہنانا ہے۔
حرم مطہر رضوی كے خطيب نے اپنے بيانات كے تسلسل میں كہا:پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے بعدامامت كا مسئلہ امت پر حاكميت كے عنوان سے ايك قرآنی منبع وحكم ركھتا ہے اور اسلامی نقطۂ نظر سےالہٰی حكومت كے علاوہ ہر حكومت قابلِ مذمت ہے۔
جناب علم الہدیٰ نے كہا:شيعوں كا یہ عقيدہ ہے كہ پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے بعد امامت كا مسئلہ ايك انتخابی يا انتسابی عمل نہیں بلكہ نظامِ ہدايت كا نام ہے۔
انہوں نے یہ بيان كرتے ہوئے كہ حضرت امام جواد علیہ السلام كی امامت كو قبول كرنا بہت زيادہ لوگوں كے لیے آسان نہیں تھا،كہا:حضرت امام صادق اور حضرت امام رضا علیہما السلام كے بعض شاگردوں نے حضرت ؑسے جن كا سن مبارك اس وقت آٹھ سال كاتھا ،سے ۳۰۰۰۰ سے زائد سوالات كیے اور جب یہ مشاہدہ كيا كہ حضرتؑ كے جوابات بقیہ آئمۂ معصومين علیہم السلام كی تعليمات كے ساتھ مطابقت ركھتے ہیں تو حضرت امام جواد علیہ السلام كی حقانيت پر ايمان لےآئے۔