ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بھارت کی مشرقی ریاست جھارکنڈ میں مارچ 2016 کو 12 سالہ امیتاز خان اور 32 سالہ مجلوم انصاری گائے فروخت کرنے کے لیے دوسرے گاؤں جارہے تھے کہ انہیں انتہاپسندہندوؤں نے گھیر لیا۔
الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے ان پر تشدد کیا اور کلہاڑیوں کے پے در پے وار سے قتل کرکے ان کی لاشوں کو گائے کے گلے میں بندھی نائلون کی رسی سے درخت پر پھانسی دے دی۔
ضلع لاتھیر کی عدالت میں دوبرس زیر سماعت مقدمے کے فیصلے میں 8 انتہا پسندہندوؤں کو عمرقید کی سزا سنائی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ عدالت کے بیرونی احاطے میں مجرموں کی حمایت میں تقریباً 100 افراد موجود تھے جو ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ 5 برس کے دوران 'گائے رکشک تحریک' کے انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں یہ دوسرا عدالتی فیصلہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2017 کے دوران تقریباً 80 پرتشدد واقعات پیش آچکے ہیں جس میں گائے رکشک تحریک کے انتہاپسند ہندوؤں نے بہیمانہ انداز میں مسلمانوں کو قتل کیا۔
دوسری جانب مقتولین کے اہلخانہ نے بتایا کہ گائے کی خرید و فروخت سے آمدنی کا کچھ ذریعہ تھا تاہم افسوس ناک واقعہ کے بعد یہ کاروبار مکمل طورپر بند کردیا۔