
فرانس 24 نیوز کے مطابق بنگلہ دیش پولیس کا کہنا ہے کہ ہزاروں روھنگیا پناہ گزینوں نے سخت مشکلات اور عدم سہولیات کے خلاف مظاہرہ کیا جسمیں توڑ پھوڑ کی بھی کوشش کی گیی، مظاہرہ اس وقت ہوا ہے جب ان پناہ گزینوں کو ایک جزیرہ میں منتقل کیا گیا جہاں کہا جاتا ہے کہ سمندری طوفان کا خطرہ موجود ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے گذشتہ سال اٹھارہ ہزار روھنگیا کو جزیرے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ جس جگہ یہ موجود تھے وہاں آٹھ لاکھ سے زاید پناہ گزین برے حالات میں رہنے پر مجبور تھے۔
روھنگیا کے فرار اور ہلاکتوں کو اقوام متحدہ کا ادارہ نسل کشی قرار دے چکا ہے۔
بنگلہ دیش پولیس کے مطابق گذشتہ روز اقوام متحدہ کے نمایندے کے دورے کے موقع پر چار ہزار روھنگیا پناہ گزینوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے گھروں کے شیشوں کو توڑا اور پولیس پر حملہ آّور ہوئے، مظاہرہن یہاں سے نکلنے کا مطالبہ کررہے تھے
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے انکو اقوام متحدہ کی عمارت کی جانب جانے سے روکنے پر جھڑپ ہوئی ہے اور ان پر پولیس تشدد کا واقعہ رونما ہوا ہے، بنگلہ دیش کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس جزیرہ میں رہایش کو مناسب قرار دیا ہے۔/