۔ماسكو سے موصولہ خبروں كے مطابق لاوروف نے كہا كہ روس كو يورپی ملكوں كے ساتھ ايرانی حكام كے جاری حالیہ مذاكرات سے اميدیں وابستہ ہیں اور اسی طرح وہ ايران كے ایٹمی معاملے كے سفارتی حل كے بارے میں پراميد ہے ۔روسی وزير خارجہ نے كہا كہ مغربی پيكج پر ايران كے جواب نے تہران كے ایٹمی پروگرام كے بارے میں مذاكرات كا راستہ ہموار كرديا ہے اورايران كے خلاف اقتصادی پابنديوں كی نہ تو كوئی دليل ہے اور نہ ضرورت دریں اثنا ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سكریٹری علی لاريجانی نے ويانا میں يورپی يونين كی خارجہ پاليسی كميشن كے سربراہ خاوير سولانا سے ملاقاتوں كے بعد كہا یہ مذاكرات مثبت رہے ہیں اور اگر یہ مذاكرات اسی اصول پر آگے بڑھتے تو اچھے نتائج برآمد ہوں گے ۔
دوسری طرف سے آئی اے ای اے كے ڈائريكٹر جنرل البرادعی نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں كہا ہے كہ ايران كی ایٹمی تنصيبات كا باربار معائنہ كئے جانے كے باوجود ايران كے ایٹمی پروگرام میں كوئی انحراف نہیں پايا گيا