امريكی حكام فسطائی نظريات كے حامل ہیں ۔كيوبا كے نائب صدر
ہوانا میں ناوابستہ تحريك كے اجلاس كے تيسرے دن آج كيوبا كے نائب صدر كارلوس لاخہ نے كہا ہے كہ امريكہ كی مداخلت پسندانہ پاليسيوں كا سبب امريكی حكام كے فسطائی نظريات ہیں ۔
كارلوس لاخہ نے كہا كہ سرد جنگ كے خاتمے سے امريكہ نے خودسرانہ طريقے سے دنيا پر تسلط جمانا شروع كرديا تھا انہوں نے كہا كہ ترقی پذير ملكوں كو ناخواندگی غربت اور عدم مساوات كو مٹانے كے لئے باہمی تعاون كرنا چاہئے ۔
ناوابستہ تحريك كے وزراء كے اجلاس میں آج بحران فلسطين پر بھی تبادلۂ خيال كيا گيا ۔
جاپان ، ايران كے ساتھ تعاون جاری ركھے گا
امريكہ كی مخالفت كے باوجود جاپان نے كہا ہے كہ آزادگان آئيل فيلڈ كے بارے میں ايران كے ساتھ مذاكرات جاری رہیں گے ۔موصولہ اطلاعات كے مطابق جاپان كے وزير تجارت نے كہا ہے كہ امريكہ ، جاپان پر دباؤ ڈال رہا ہے كہ آزادگان آئيل فيلڈ كو تيار كرنے میں ايران كے ساتھ تعاون ختم كرے ليكن ٹوكيو امريكہ كے دباؤ میں نہیں آئے گا ۔
جاپانی وزير تجارت نے كہا كہ جاپان ، عالمی برادری كے ساتھ تعاون جاری ركھے گا اورايران ،جاپان كو انرجی كے ذخائير فراہم كرنے میں كليدی كردار كا حامل ہے ۔
قابل ذكر ہے ايران اور جاپان نے 2004 میں آزادگان آئيل فيلڈ سے استفادہ كرنے كے سلسلے میں دو ارب ڈالر كا معاہدہ كيا تھا ۔(14 ستمبر 2006)
فلسطينی انتظامیہ صیہونی حكومت كے ساتھ مذاكرات نہیں كے گی ۔وزير اعظم ہنیہ
فلسطين كے وزير اعظم اسماعيل ہنیہ نے كہا ہے كہ فلسطينی انتظامیہ صیہونی حكومت كے ساتھ ہرگز مذاكرات نہیں كرے گی ، انہوں نے كہا تنظيم آزادی فلسطين PLO خود كو صیہونی حكومت كے ساتھ ممكنہ مذاكرات كا ذمہ دار سمجھتی ہے ۔
قابل ذكر ہے كہ صیہونی حكومت نے امريكہ كی سربراہی میں مغربی ممالك كی حمايت سے حماس كی حكومت پر شديد دباؤ بنا ركھا ہے كہ فلسطينی انتظامیہ ، قدس كی غاصب حكومت كو تسليم كرلے ليكن ملت فلسطين بدستور صیہونی حكومت كو غاصب سمجھتی ہے ۔(14 ستمبر 2006)
حزب اللہ كی حمايت پر لبنان كے سابق وزير اعظم كی تاكيد
لبنان كے سابق وزير اعظم عمر كرامی نے ايك بار پھر حزب اللہ لبنان كے سكریٹری جناب سيد حسن نصراللہ كی حمايت كی ہے ۔
عمر كرامی نے حزب اللہ كے مخالف گروہوں كو ہدف تنقيد بناتے ہوئے سيد حسن نصراللہ كے بيانات كا خير مقدم كيا ۔قابل ذكر ہے كہ سيد حسن نصراللہ نے برطانوی وزير اعظم ٹونی بليئر كے حالیہ دورہ بيروت كی شديد مذمت كی ہے انہوں نے كہا ہے كہ بعض داخلی حلقوں نے اسرائيل كی 33 روزہ جارحيت كے دوران اسلامی استقامت پر پيچھے سے وار كيا ہے ۔سيد حسن نصراللہ نے لبنانی حكومت كی ناتوانی پر بھی اسے تنقيد كا نشانہ بنايا ۔(14 ستمبر 2006)
صیہونی صدر مستعفی
صیہونی صدر موشہ كتساؤ نے عارضی طور پراستعفی دے ديا ہے ۔موصولہ اطلاعات كے مطابق صیہونی صدر كنساؤ پر مالی اور اخلاقی بدعنوانيوں كے الزامات ہیں اور پوليس ان سے پوچھ تاچھ كررہی ہے ۔كتساؤ نے آج اپنے عارضی استعفی كا اعلان كرتے ہوئے كہا كہ وہ سپريم كورٹ كے جسٹس كی تقريب حلف برداری میں شركت نہیں كریں گے ۔
موشہ كتساؤ پر الزام ہے كہ انہوں نے اپنے دفتر میں كام كرنے والی خواتين سے ناجائيز تعلقات قائم كئےتھے ۔
ادھر اطلاعات ہیں كہ اسرائيلی فوج كے سابق سربراہ نے وزيراعظم ایہود اولمرٹ سے فوری طور پر اقتدار چھوڑنے كا مطالبہ كيا ہے۔(14 ستمبر 2006)
جھاركھنڈ میں NDA حكومت كا خاتمہ
پی ٹی آئی كی رپورٹ كے مطابق رياست جھاركھنڈ میں قومی جمہوری اتحاد كی حكومت گر گئی ہے اور وزير اعلیٰ ارجن منڈا نے استعفی دے ديا ہے ۔
چار اسمبلی اراكين نے ارجن منڈا كی حمايت سے ہاتھ كھينچ ليا تھا جس كے بعد انہوں نے استعفی دے ديا ۔
جھاركھنڈ میں NDA كی حكومت كے خاتمے كے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی كی حمايت يافتہ حكومتیں اب صرف چھ رياستوں میں قائم ہیں ۔ (14 ستمبر 2006)
دعووں كو مسترد كرديا ۔ايرانی وزارت خارجہ كے ترجمان محمّد علی حسينی نے عراق كے داخلی امور میں ايران كی مداخلت كے بارے میں امريكہ اور برطانیہ كے الزامات اور جھوٹی افواہوں كو مسترد كرتے ہوئے اسے ہرطرح كے ثبوت و شواہد سے عاری قرارديا اوركہا دشمن عراق میں بدامنی پھيلانے والے بنيادی عناصر كو چھپانا چاہتا ہے ۔
جناب محمد علی حسينی نے یہ تاكيد كرتے ہوئے كہ اس طرح كے الزامات سے ايران و عراق كے دوستانہ تعلقات پر كوئی اثر نہیں پڑے گا كہا كہ تہران اور بغداد بڑی ہوشياری كے ساتھ دوستانہ تعلقات كا جائزہ لے رہے ہیں ۔عراق كے وزير اعظم منگل كی صبح ايك اعلی وفد كے ساتھ ايران پہونچے ۔انہوں نے قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای سميت ايران كے اعلی حكام سے ملاقات و گفتگو كی ۔نوری المالكی نے تہران كے دورہ كو مثبت قرارديا ۔نوری المالكی اور احمدی نژاد كی ملاقات كے بعد وہائٹ ہاؤس كے ترجمان سميت ٹونی بليئر نے عراق كی امداد كے بارے میں صدر احمدی نژاد كے اس اعلان كے ردعمل ہیں كہ ايران ہرطرح سے عراق كی مدد كرنے كو تيار ہے ۔ايران پرعراق كے داخلی امورمیں مداخلت كے الزامات لگائے ۔
دورۂ تہران كامياب رہا ۔عراقی وزير اعظم نوری المالكی كی پريس كانفرنس
عراق كے وزير اعظم نوری المالكی نے اپنے دورۂ تہران كو مثبت قرار ديا ہے ۔
عراقی وزير اعظم نےايران كے نائب صدر پرويز داوودی كے ساتھ ايك مشتركہ پريس كانفرنس میں ايران و عراق كے تعلقات كو فروغ دينے كے لئے مختلف معاہدوں پر دستخط كو مثبت قرارديتے ہوئے كہا دورۂ تہران پڑوسيوں بالخصوص اسلامی جمہوریۂ ايران كےساتھ تعلقات كوفروغ دينے كی عراقی حكومت كی كلی پاليسيوں كے تناظر میں انجام پايا ہے ۔
اس موقع پر ايران كے نائب صدر نے كہا كہ اسلامی جمہوریۂ ايران نوری المالكی اور ان كی حكومت كی مكمل حمايت كا اعلان كرتا ہے اوراس ملك كے مسائل كوحل كرنے كے لئے كسی بھی كوشش سے دريغ نہیں كرے گا ۔(14 ستمبر 2006)
نیٹوں كا افغانستان كے لئے مزيد فوجی بھيجنے سے انكار
نیٹو كا كوئی بھی ركن ملك افغانستان میں مزيد فوجی بھيجنے پرتيار نہیں ہوا ۔
برسلز سے فرانس پريس كی رپورٹ كے مطابق نیٹو كے ترجمان جيمز اپاٹرای نے كہا كہ ميونيخ میں ہونے والے نیٹو كےاجلاس میں كسی بھی ركن ملك نے افغانستان میں اپنے فوجی بھيجنے پر آمادگی ظاہر نہیں كی ۔
قابل ذكر ہےكہ گذشتہ ہفتے نیٹو كے كمانڈر جنرل جيمز جونزجنوبی افغانستان میں طالبان كی شديد مزاحمت كا مقابلہ كرنے كےلئے تقريبا" دو ہزار فوجيوں كا مطالبہ كيا تھا ۔(14 ستمبر 2006)
افغانستان میں منشيات كی پيداوار میں زبردست اضافہ ۔اقوام متحدہ
افغانستان میں ،اقوام متحدہ كے دفتر برای انسداد منشيات كی رپورٹ كے مطابق ،رواں سال میں افغانستان میں منشيات كی پيداوار میں انسٹھ 59 فی صد اضافہ ہوا ہے ۔
گذشتہ سال افغانستان میں منشيات كی پيداوار تقريبا" چار ہزار ٹن تھی اور یہ مقدار بڑھ كر اس سال 6100 ٹن ہوگئی ہے۔اس رپورٹ كےمطابق گذشتہ سال ايك لاكھ چار ہزار ايكڑ زمينوں پر خشخاش بوئی گئی تھی ليكن اس سال منشيات كی كاشت ايك لاكھ پينسٹھ ہزار ايكڑ زمين پر ہوئی ہے ۔
قابل ذكر ہےكہ افغانستان میں منشيات كی پيداوار میں اضافے كےبارے میں یہ رپورٹ ايسے عالم میں سامنے آئی ہے جبكہ افغان صدر اوراس ملك میں تعينات غير ملكی افواج نےمنشيات كی پيداوار اور اسمگلنگ پركنٹرول كرنے كے لئے بلند بانگ دعوے كئے ہیں اور یہ پروپيگنڈا كيا ہےكہ گذشتہ سال خشخاش كے اكيس فی صد كھيت تباہ كردے گئے ہیں ۔
دوسری طرف بعض مبصرين كا كہنا ہے كہ منشيات كی تجارت طالبان اوردہشت گردوں كے لئے آمدنی كا اہم ترين ذريعہ ہے اوریہ لوگ اپنی فوجی ضرورتوں كو منشيات كی تجارت سے پورا كرتے ہیں اور چونكہ افغانستان میں غربت وافلاس كا دور دورہ ہے لہذا عوام كومنشيات كی كاشت كرنے پر اكساتے ہیں ۔(14 ستمبر 2006)