۔اسلامی جمہوریۂ ايران كے صدر ڈاكٹر محمود احمدی نژاد نے كوفی عنان سے ملاقات میں كہا ایٹمی سرگرميوں كے بارے میں ايران كا موقف ٹھوس اور سب كے لئے واضح ہے ليكن اس كے جواب میں بعض يورپی ممالك اور امريكہ سلامتی كونسل میں ايران كے خلاف قرارداد پاس كرتے ہیں یہ ايسی حالت میں ہے كہ ايران كی پرامن ایٹمی سرگرميوں كی ماہيت مكمل طور پر پرامن ہے اور اس میں فوجی مقاصد كے تعلق سے كوئی بھی انحراف نہیں پايا جاتا ۔بی بی سی نے ابھی حال ہی میں اپنی ايك رپورٹ میں اعلان كيا كہ آئی اے ای اے يا حتی امريكہ كی طرف سے ابھی تك ايسا كوئی ثبوت پيش نہیں كيا گيا جس سے یہ ثابت ہوسكے كہ ايران ایٹمی ہتھيار بنانے كی كوشش كررہا ہے ۔آئی اے ای اے كے ڈائريكٹر جنرل محمد البرادعی كی سلامتی كونسل میں پيش كی گئی رپورٹ ايك واضح ثبوت ہے كہ ايران كا ایٹمی پروگرام مكمل طور پر شفاف اور پرامن مقاصد كے لئے ہے ۔اقوام متحدہ كے سكریٹری جنرل كوفی عنان نے بھی صاف طور پر كہا ہے كہ ايرانی حكام سے بات كركے پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے بارے میں ايران كے موقف كو بہتر طور پر سمجھ سكے ہیں ۔كوفی عنان كے دورۂ ايران كے موقع پر او آئی سی نے اپنے واضح اور روشن بيان میں ايكبار پھر اين پی ٹی كے دائرے میں ايران كے ایٹمی حقوق كی حمايت كا اعلان كيا ہے ۔آئی اے ای اے كی رپورٹوں بالخصوص تازہ ترين رپورٹ ،اسی طرح ناوابستہ تحريك كے ممالك او آئی سی اور عرب ليگ كے بيانات سبھی اس بات كو ثابت كرتے ہیں كہ ايران كا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اسی طرح عالمی برادری كے لئے پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال پر مبنی ايران كاحق مكمل طور پر ثابت اور روشن ہے ۔اس كے باوجود مغرب كی كچھ منہ زور طاقتیں ايران اور ديگر ترقی پذير ملكوں كو ان كے ایٹمی حقوق سے محروم كرنے كی كوشش كررہی ہیں ۔مغربی ممالك اپنے غيراصولی رویّوں كی وجہ سے اور اپنے دعووں كے برخلاف نہ فقط یہ كہ عالمی برادری كے ساتھ نہیں ہیں بلكہ وہ عالمی برادری كے مد مقابل ہوگئے ہیں ۔ليكن مغربی طاقتوں كے مواقف كے واضح طور پر غير اصولی اور مخاصمانہ ہونے كے باوجود ايران نے كھلے طور پر جذبہ خيرسگالی اور ساتھ ہی بعض مغربی ملكوں كے سامنے اتمام حجت كے لئے مغربی پيكج كا جواب ديا اور اب ان كے فوری اور شفاف جواب كا منتظر ہے ۔يورپی يونين ماضی میں امريكی پاليسيوں كی پيروی كرنے كی وجہ سے غلطيوں كی مرتكب ہوئی ہے اور ايك ايسے وقت جب ايران مغربی پيكج كا مطالعہ كررہا تھا يورپی ملكوں نے اپنے ايك غير اصولی اقدام كے تحت ايران كے خلاف قرارداد پاس كرنے كے لئے سلامتی كونسل كو اپنے ہاتھ كا كھلونا بناليا اور ايران كے ایٹمی پرامن پروگرام كے خلاف قرارداد پاس كرادی ۔موجودہ حالات میں جوبات مسلم ہے وہ یہ كہ امريكہ كے غير دانشمندانہ موقف كی پيروی عالمی سطح پر يورپی ملكوں كے مفادات ان كی حيثيت و وقار او آزادی و خود مختاری كے حق میں نہیں ہے ۔اس حقيقت كو درك كركے اور یہ كہ اس وقت گيند يورپ كے پالے میں ہے توقع كی جارہی ہے كہ يورپی حكومتیں ايران كے پرامن ایٹمی پروگرام كے بارے میں مثبت رویّہ اپنائیں گی تاكہ ايران اور يورپ كے درميان منصفانہ مذاكرات كا راستہ ہموار ہوسكے ۔(4 ستمبر 2006)
كوفی عنان كی اعلیٰ ايرانی حكام سے ملاقات