ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق
آيت الله ناصر مكارم شيرازی نے تفسير قرآن كے درس میں كها كه خداوند عالم نے قرآن مجيد میں مختلف جگهوں پر مفرد قسم كھائ هے اور دو مقام پر اپنے نام الله كے ذريعه قسم كھائ اور ايك جگه پيغمبرۖ كی جان كی قسم اور تين جگه كتاب مبين اور ايك جگه عصر كی قسم كھائ هے –
انهوں نے كلمه الله كی قسم كے سلسله میں بيان كرتے هوۓ كها كه كفار اپنے بتوں كےلیے قربانی كرتے اور زمينی زراعت كا بھی ايك حصه ان كےلیے قرار ديتے تھے-اور اپنے اس عمل كو خدا كی طرف منسوب كرتے تھے خداوند عالم اپنی ذات كی قسم كھا كر ايسے افترا كو رد كررها هے –
اس مرجع تقليد نے لفظ الله كے معانی بيان كرتے هوۓ كها كه خداوندعالم كے دو طرح كے نام هیں-كچھ نام وه هیں جو پروردگار كی صفات میں سے ايك صفت كو بيان كرتے هیں جيسے رزاق ،رحمن ،حی ،قيوم-
ليكن لفظ الله كے معانی يه هیں جس میں سارے صفات كمال پاۓ جاتے هیں-
آيت الله مكارم شيرازی نے كها: كه اگر كئ چيزوں كو دين كا جز سمجھیں تو يقينا يه بدعت هیں اور خداوندعالم نے اپنے مبارك نام كی قسم كھا كر يه اعلان كيا هے كه جو بھی كوئ چيز دين میں داخل كرے گا اور اسے خدا كی طرف نسبت دے گا تو وه روز قيامت سزا كا مستحق هوگا-