آيت اللہ ممدوحی نے ايكنا كو اپنے انٹر ويو میں كہا كہ واقعہ كربلا كے زندہ رہنے كا سب سے بڑا عامل یہ ہے كہ امام حسين نے كسی شخص كے خلاف قيام نہیں كيا بلكہ امام عالی مقام كا مقابلہ ظلم و ستم اور فسق وفساد سے تھا لہذا جہاں بھی منطق ظلم و فساد حاكم ہوگی وہاں امام حسينۜ كے پيروكاروں كی ايسے ظالم و فاسد لوگوں سے جنگ ہوگی-
انہوں نے كہا: قيام امام حسين ۜ كسی خاص وقت يا جگہ كے ساتھ خاص نہیں كيونكہ امام حسينۜ قيامت تك انسانيت كے امام ہیں لہذا ان كا كردار بھی قيامت تك حجت ہے اور جہاں يزيدی فكر ہوگی وہاں حسينی ۜ فكر اس كا مقابلہ كريگی-
انہوں نے اسلامی انقلاب كی كاميابی اور محرم الحرام كے اكٹھا ہونے كا ذكر كرتے ہوۓ اسے انقلاب اسلامی كی كاميابی كے عوامل اور اسباب پر تجزیہ و تحليل كرنے كا بہترين موقع قرار ديا اور كہا كہ ہمیں ديكھنا ہوگا كہ وہ كونسا بنيادی عامل تھا جو ہمارے انقلاب میں نماياں حيثيت ركھتا تھا اور كاميابی كا باعث بنا اسے ہی اس نظام كی بنياد قرار ديا جاۓ انہوں نے صحيفہ سجادیہ كو واقعہ كربلا كی مكمل تشريح قرار ديا-