ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ نيوز سنٹر سے گفتگو كرتے ہوۓ قائد ملت جعفریہ پاكستان علامہ سيد ساجد علی نقوی نے كہا كہ پاكستان میں اب كفر كے فتووں كی كوئی جگہ نہیں ہے اور فرقہ واريت پر مشتمل وال چاكنگ اور اشتہار بازی وغيرہ كا زمانہ گذر چكا ہے انہوں نے دشمنوں كی سازشوں كو ناكام كرنے كی ضرورت پر زور ديتے ہوۓ كہا كہ اب ہم كسی استعماری طاقت كو فرقہ واريت كے لیے پاكستان كی سر زمين استعمال كرنے كی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے قائد انقلاب اسلامی كی طرف اسلامی وحدت و يكجہتی كی كوششوں كو سراہتے ہوۓ كہا كہ اسلامی انقلاب نے ہميشہ دنياۓ اسلام كے اتحاد كی بات كی ہے اور اس كے لیے بہت قربانياں بھی دی ہیں علامہ ساجد نقوی نے كہا كہ امام خمينی كی پوری كوشش تھی كہ دنياۓ اسلام اتحاد و وحدت كا نمونہ بن جاۓ حتی كہ ان سے ميری آخری ملاقات میں انہوں نے وحدت مسلمين كے لیے كام كرنے كی نصيحت فرمائی تھی ۔ انہوں نے مزيد كہا كہ آج روحانيت كی ذمہ داری ہے كہ وہ لوگوں كی معلومات كو وسعت دے تاكہ وہ معمولی مسائل پر ايك دوسرے سے نہ الجھیں ۔
انہوں نے كہا كہ اگر كسی دن پاكستانی شيعہ ، حكومت میں آۓ تو وہ تمام مذاھب سے مل كر وحدت كو عملی جامہ پہنائیں گے ۔
183343