امريكی خفیہ اداروں كی حالیہ ’رپورٹ ايران كےلیے بڑی جيت ہے‘

IQNA

دكتر احمدی نژاد:

امريكی خفیہ اداروں كی حالیہ ’رپورٹ ايران كےلیے بڑی جيت ہے‘

ايرانی صدراحمدی نژاد كا كہنا ہے كہ ايران كے جوہری پروگرام كے بارے میں امريكی خفیہ اداروں كی حالیہ رپورٹ سے ايران كی بڑی جيت ہوئی ہے۔
ايرانی صدر كا كہنا ہے كہ پرامن مقاصد كے لیے ايران كا جوہری پرگرام بند نہیں ہوگا

انہوں نے پھر كہا ہے كہ ايران پرامن مقاصد كے لیے جاری اپنے جوہری پروگرم كو بند نہیں كرےگا۔

ٹيلی ويزن پر نشر ہونے والے اپنے ايك خطاب میں احمدی نژاد نے كہا’یہ رپورٹ جوہری امور سے متعلق مغربی ممالك كے مقابلے ايرانی قوم كے لیے فتح كا اعلان كر رہی ہے۔‘

پير كو سامنے آنے والی امريكی رپورٹ میں كہا گيا ہے كہ ايران نے جوہری ہتھياروں كی تياری كے منصوبہ پر كام سنہ 2003 میں روك ديا تھا۔ تاہم اس’مثبت‘ رپورٹ كے باوجود امريكہ اور مغربی ممالك ايران پر پابندياں عائد كرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں چين كے سفير نے كہا ہے كہ ايرانی كے جوہری عزائم پر امريكی خفیہ اداروں كی حالیہ رپورٹ كے بعد یہ سوال پيدا ہو گيا ہے كہ آيا ايران پر نئی پابنديوں كی ضرورت ہے بھی يا نہیں۔

چين كے سفير وان گوينگ يا كا كہنا ہےكہ اقوامِ متحدہ كی سكيورٹی كونسل كو ان نئی معلومات كو مدِ نظر ركھنا چاہیے كيونكہ’اب حالات بدل گئے ہیں‘۔

اس سوال پر كہ كيا اس رپورٹ سے ايران پر پابنديوں كے تيسرے مرحلے كا امكان كم ہو گيا ہے، چينی سفير نے كہا كہ’ ميرے خيال میں سلامتی كونسل كو اس بات پر غور كرنا چاہیے اور ہم سب كو یہ بات سوچنی چاہیے كہ اب حالات تبديل ہو چكے ہیں‘۔

چين نے ايران پر يورينيم كی افزودگی كا عمل نہ روكنے پر پہلے دو مرحلوں میں لگائی جانے والی پابنديوں كی بھی بادلِ ناخواستہ حمايت كی تھی اور تيسرے مرحلہ میں بھی پابنديوں كے نفاد كے لیے چين اور روس جيسے ممالك كی حمايت نہايت ضروری ہے كيونكہ یہ دونوں ممالك ویٹو كا حق ركھتے ہیں۔
بی بی سی