{ ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی رپورٹ كے مطابق مجمع جھانی تقريب مذاھب اسلامی كے سربراہ ٫ آيت اللہ محمد علی تسخيری ٬٬ نے ۲۰ فروری ۲۰۰۸ ء كو اسلامی يكجہتی كے موضوع پر ايك بين الاقوامی كانفرنس كی افتتاحی تقريب سے خطاب كرتے ہوۓ ادارہ آيسسكو كی ثقافتی سرگرميوں كو سراہتے ہوۓ كہا كہ اسی لیے امت اسلامی كو امت واحدہ كہا جاتا ہے اور اگر یہ وحدت اسلامی ہمارے درميان نہ رہے تو اس كا معنی یہ ہوگا كہ قرآنی امت واحدہ كا وجود ختم ہو گيا ہے ۔
انہوں نے قرآن مجيد كی آيت ٫٫ و اعتصموا بحبل اللہ جمعيا ٬٬ كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ اگر اسلامی ممالك میں وحدت نہ ہو تو وہ فساد میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان حالات میں دشمن بھر پور استفادہ كرے گا ۔
انہوں نے كہا كہ وحدت سے مراد فكری نہیں ہے بلكہ وحدت عملی ہے كيونكہ عملی وحدت كے نتيجے میں اسلامی سماج كے خلاف ہر سازش كو ناكام بنايا جا سكتا ہے ۔
آيت اللہ تسخيری نے مزيد كہا كہ تقريب مذاھب اسلامی كا مطلب یہ ہے كہ تمام اسلامی مذاھب اپنے اصول كے اندر رہ كر مشترك اقدار كی شناخت كریں اور ان اقدار كے استحكام كے لیے كوششیں كریں ۔
انہوں نے كہا كہ سماج كے اندر وحدت ، عقلی اور منطقی بنيادوں پر استوار ہونی چاہیے اور اس میں افراط و تفريط سے اجتناب ہونا چاہیے ۔
آيت اللہ تسخيری نے اسلامی سماج كی عدم شناخت پر افسوس كا اظہار كرتے ہوۓ كہا كہ علماء كرام كو چاہیے كہ وہ تقريب مذاھب اسلامی سے مربوط مسائل كو پہچانیں تاكہ تقريب مذاھب كی ثقافت كو معاشرے میں منتقل كر سكیں ۔
انہوں نے آخر میں كہا كہ ايران وحدت اسلامی كے سلسلے میں اپنا كردار بھر پور انداز میں ادا كرتا رہے گا اور اميد ہے كہ اسلامی دنيا كے تمام ثقافتی ادارے وحدت اسلامی كے استحكام كے لیے صحيح حكمت عملی اپنائیں گے ۔
225186