ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا '' كی رپورٹ كے مطابق تشخيص مصلحت نطام كونسل كے سربراہ آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے ۲۱ویں بين الاقوامی وحدت اسلامی كانفرنس كی افتتاحی تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ موجودہ حالات میں مسلمانوں كے اختلافات افسوس ناك ہیں۔ بزرگ علماء كی موجودگی میں اختلافات اور كفر آميز فتوے جنگ وجدال كا سبب بنے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ مسلمانوں كا اختلاف عالم كفر كے لیے بہترين ہدیہ ہے اور بہت سے اختلافات عالم كفر كے پيدا كردہ ہیں۔ ميثاق وحدت كا اہم ترين ركن یہ ہے كہ ہم اپنے آپ كو ان اختلافات سے آلودہ نہ كریں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ سپر پاورز دنيا میں اپنا تسلط چاہتی ہیں۔ اور وہ اس تسلط كو حاصل كرنے كے لیے یہ گوارا نہیں كرتیں كہ ہم آپس میں مل بیٹھیں۔ انھوں نے وضاحت كی كہ موجودہ حالات، بعثت پيغمبر اسلام﴿ص﴾ كے ابتدائی دنوں كی طرح ہیں كہ ان ايام میں پيغمبر اسلام اور مسلمانوں كو مشركين كی طرف سے اقتصادی بائيكاٹ ، پراپيگنڈے اور ناروا تہمتوں كا سامنا تھا جو اس دور میں بھی جاری ہے۔
247191