كرغستان كے حافظ و قاری قرآن نے ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' شعبہ كرغستان سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ تبليغ اور اسلامی تعليمات كی تدريس ہر عالم كی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے كہا كہ میں نے ۱۹۹۲ء سے قرآنی تعليم كا آغاز كيا اور اس وقت كرغستان میں دينی مكتب خانے موجود نہ تھے لہذا میں، علوم قرآنی اور اسلامی تعليم حاصل كرنے كے لیے تاشقند گيا اور وہاں سے كرغستان واپسی پر ادارہ علماء مسلمان كرغستان میں ملازمت اختيار كی اور قرآنی مكتب '' اخلاص'' میں تعليم دينے كا آغاز كيا در حال حاضر میں كئی مكتب خانوں میں تعليم دے رہا ہوں۔ اور كئی شاگردوں كی تربيت كی ہے جو خود آج صاحب نام اساتذہ میں تبديل ہو چكے ہیں اور كئی مكتب خانوں میں تدريس كر رہے ہیں۔ انھوں نے علوم قرآن سے آشنائی كو عظيم نعمت قرار ديتےھوئےكہا كہ ہماری ذمہ داری ہے كہ ہم اسلامی اور قرآنی تعليمات كو عام كرنے كے لیے كوئی لمحہ فرو گزاشت نہ كریں۔
۲۵۶۶۹۶