تہران يونيورسٹی كے پروفيسر ڈاكٹر " فقہی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ بعض افراد حكومت كے قانونی فيصلوں میں قرآن كی شركت كا مشورہ ديتے ہیں ليكن قرآن كی كيفيت كے لحاظ سے موجود ہونے كے بارے میں كوئی واضح پروگرام پيش نہیں كرتے۔ یہ بات واضح ہے كہ كسی بھی پروگرام میں ايك يا چند آيات كو لكھ دينے سے وہ مقدس ہدف حاصل نہیں ہوتا۔ يعنی اس پروگرام اور قرآن كے بينادی اصولوں كے درميان علمی ارتباط قائم نہیں ہوتا ہے۔ اس پروفيسر نے مزيد كہا كہ سوال یہ ہے كہ كيا پارليمنٹ اور نگران كونسل كے توسط سے قوانين كے بارے میں جانچ پڑتال ان قوانين كے قرآنی ہونے كے معنی میں نہیں ہے؟ كيا كسی قانون كے آغاز يا انجام میں آيت قرآن لكھنے سے اس میں اثر ہوتا ہے؟ اس محقق نے كہا كہ یہ سوال وہاں سے پيدا ہوتا ہے كہ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ دين ، شريعت اور قرآن كے بارے میں رائے دينے كے لیے كسی شرط اور ابتدائی علمی مراحل كی ضرورت نہیں ہے۔اور گويا كہ جس كے پاس جتنا بھی علم ہے اور كسی بھی مضمون كا علم ركھتا ہے وہ قرآن كے ترجمہ كی طرف رجوع كر كے اسلام اور قرآن كے بارے میں اپنی رائے كا اظہار كر سكتا ہے اور كسی كو اسے روكنے كا حق حاصل نہیں ہے۔ ڈاكٹر فقہی نے آخر میں كہا ہے كہ اميد ہے كہ تھيوری كو مترتب كرنے والوں كہ جن كے اہداف يقينی طور پر مقدس ہیں كو محققين قرآن كے ساتھ چلنا چاہیے۔
298111