حجت الاسلام خرسند :شيعہ، منطقی انداز سے " قرضاوی" كے اعتراضات كا جواب دیں

IQNA

حجت الاسلام خرسند :شيعہ، منطقی انداز سے " قرضاوی" كے اعتراضات كا جواب دیں

سياسی گروپ: ہمیں " قرضاوی" كے بيانات كے جواب دينے كے لیے افراط و تفريط سے دوچار نہیں ہونا چاہیے اور منطقی طريقے سے ان مسائل كا جواب دينا چاہیے۔ مسلمانوں كو توہين كا جواب توہين سے نہیں دينا چاہیے بلكہ استدلال اور منطق سے جواب دينا چاہیے۔

حزب موتلفہ اسلامی كی مركزی كونسل كے ركن حجت الاسلام والمسلمين محمد خرسند نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے شيعوں كے بارے میں مسلمان علماء كی يونين كے سربراہ " قرضاوی" كے حالیہ بيانات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اس كی شخصيت كا لحاظ كرتے ہوئے اس كے كلام كو باطل قرار ديا ہے۔ حجت الاسلام خرسند نے كہا كہ دشمنوں كی یہ كوشش ہے كہ وہ امت اسلامی كے مختلف فرقوں میں اختلاف ڈالیں اور وہ اپنے ان كرتوتوں كے ذريعے مسلمانوں كے درميان دشمنی ايجاد كرنے كے درپے ہیں تاكہ امت اسلامی ان اختلافات كی بنا پر اپنے مشتركہ دشمن بالخصوص اسرائيل اور امريكہ سے غافل ہو جائیں تاكہ وہ اپنی سازشوں كو عملی جامہ پہنا سكیں۔ انھوں نے كہا كہ سب مسلمانوں كو شيعہ ہوں يا سنی چاہیے كہ وہ دشمنوں كی سازشوں سے ہو شيار رہیں۔ حجت الاسلام خرسند نے مزيد كہا كہ اس قسم كی باتوں كو سن كر ہمیں افراط و تفريط كا شكار نہیں ہونا چاہیے بلكہ استدلال اور منطقی طريقے سے ان مسائل كا جواب دينا چاہیے۔ انھوں نے آخر میں كہا كہ ہم امت اسلامی كا دفاع كرنے كو ايك شرعی فريضہ جانتے ہیں لہذا جہاں پر بھی مسلمانوں يا اسلامی ممالك پر تجاوز ہو ہم اس كا دفاع كرنا اپنا شرعی فريضہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اميد ہے كہ امت اسلامی كے علماء، اسلامی جمہوریہ كا دفاع كریں نہ كہ اسلامی نظام اور تشيع پر بے بنياد الزامات لگائیں۔
301781