بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كےاعزازی نامہ نگار نے " حج" سائیٹ كےحوالے سے نقل كيا ہے كہ سعودی عرب كی حكومت كی جانب سے ويزے كی مدت میں ايك ماہ كی كمی كی وجہ سے ہوٹلنگ اور سعودی عرب كے دوسرے معاشی شعبوں نے شديد اعتراض كيا ہے اور یہ چيز سعودی عرب كی معاشی حالت كو بہت زيادہ نقصان پہنچا سكتی ہے۔ ويزے كی مدت میں كمی كے علاوہ سعودی عرب كی حكومت نے شہر مقدس مكہ میں سفر كرنے والے تاجروں كے لیے ويزہ صادر كرنے پر پابندی كا پروگرام بنايا ہے۔ شہر مكہ كے ايك عہديدار نے سعودی عرب كےاس نئے قانون كو غلط قرار ديتےہوئے كہاكہ اس قانون كے نفاذ سے سالانہ كم از كم ايك ارب سعودی ريال كا نقصان ہو گا۔ انھوں نے كہا كہ اس نئے قانون كے ابھی منفی آثار سامنے آ رہے ہیں جن میں سے اس ماہ رمضان میں مكہ اور مدينہ كے شہروں میں زائرين كی تعداد میں كافی حد تك كمی ديكھنے میں آئی ہے۔ دوسری جانب سعودی حكام نے اميد ظاہر كی ہے كہ مسجد الحرام اور مسجد النبی كی توسيع كے بعد عمرہ كے ويزہ كی مدت اپنی سابقہ حالت پر لوٹ جائے گی۔ يا پھر اس كی مدت میں اضافہ ہو گا۔
301573