قرآنی خبر رساں ايجنسی " ايكنا" كے مطابق قائد ملت جعفریہ پاكستان كے مركزی دفتر سے موصول ہونے والی پريس ريليز میں كہا گيا ہے كہ ۲ جنوری ۲۰۰۹ء قائد ملت جعفریہ پاكستان اور اسلامی تحريك پاكستان كے سربراہ علامہ سيد ساجد علی نقوی كی اپيل پر ملك بھرمیں غزہ پر اسرائيلی بمباری اور مسلسل حملوں كے نتيجے میں سينكڑوں مظلوم فلسطينی مسلمانوں سميت حماس كے رہنما اور ان كے خانوادہ كی شہادت اور بڑے پيمانے پر ہونے والے نقصانات پر شديد غم وغصے كا اظہار كرتے ہوئے چاروں صوبوں سميت آزاد كشمير اور شمالی علاقہ جات میں يوم احتجاج منايا گيا اور نماز جمعہ كے احتماعات اور مجالس عزاء میں صیہونی مظالم كی شديد الفاظ میں مذمت كرتے ہوئے سلامتی كونسل میں امريكہ اور برطانیہ كی جانب سے اسرائيل كے خلاف قرار داد كو مسترد كرنے پر ناگواری اور مذمت كا اظہار كيا۔ راولپنڈی /اسلام آباد میں علامہ شفا نجفی، علامہ نصير حيدر، علامہ جليل نقوی،پشاور میں علامہ رمضان توقير، ڈيرہ اسماعيل خان میں علامہ غلام حسن جاڑا، كوئٹہ میں علامہ شيخ مہدی نجفی، كراچی میں علامہ سيد محمد تقی نقوی، علامہ باقر نجفی، حيدر آباد میں علامہ الطاف حسينی ، لاہور میں علامہ افضل حيدری، علامہ حافظ كاظم رضا، ملتان میں علامہ علی اصغر نقوی، فدا گھلوی، فيصل آباد میں علامہ مظہر اعوان، گلگت میں علامہ شيخ غلام حيدر ، علامہ راحت الحسينی، ديدار علی، اسكردو میں علامہ شيخ محمد حسن، آغا عباس رضوی ، آزاد كشمير میں سيد محمود بخاری، چنيوٹ میں علامہ قاضی غلام مرتضی، علامہ واجد علی نقوی، جنڈ میں علامہ عارف واحدی ، چكوال میں علامہ محمد ہاشم، علامہ امداد صابری، خوشاب میں علامہ ملك اعجاز نجفی ، علامہ محی الدين كاظم، جہلم میں علامہ اشتياق كاظمی، كھيوڑہ میں علامہ ظہور حسين خان اور ديگر چھوٹے بڑے شہروں میں ائمہ جمعہ و جماعت اور مقررين نے خطاب كرتے ہوئے مسلسل كئی روز سے جاری اسرائيلی بمباری اور جارحيت پر اقوام متحدہ اور عالمی امن كے ضامن اداروں كےكردار پر كڑی تنقيدكی۔ مقررين نےكہا كہ مظلوم و مجبور اور نہتے و بے كس فلسطينيوں پر قيامت ڈہائی جا رہی ہے ليكن عالمی دنيا ، اقوام متحدہ ، انسانی حقوق كی تنظيموں سيميت او آئی سی خاموش اور ساكت دكھائی ديتے ہیں۔ اس كھلی درندگی كو بند كروانے كے لیے موثر آواز بلند كرنےكی ضرورت ہے۔ جس كی سب سے زيادہ ذمہ داری مسلم ممالك پر عائد ہوتی ہےكہ وہ باہم متحد ہو كر صدائے احتجاج بلند كریں اور صیہونی ظلم وستم كو روكنے كے لیے فوری اقدامات كریں۔ مقررين نے یہ بات زور دے كر كہی كہ اسلامی سربراہی كانفرنس تنظيم كی جانب سے اس حوالے سے طلب كيا گيا اجلاس خوش آئند ہے۔ تاہم اس اجلاس میں اسلامی دنيا كےخلاف ہونے والی سازشوں پر موثر اور جاندار رد عمل آنا چاہیے اور روايتی سكوت اور مصلحت پسندانہ پاليسی ترك كر كے مثبت اور طاقتور انداز میں اپنے وجود كا اظہار كرنا چاہیے تاكہ عالم اسلام كا وقار بلند ہو سكے۔