بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے زيمبيا میں ايرانی كونسل خانہ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ايك روزہ كانفرنس كا آغاز تلاوت كلام پاك سے ہوا۔ جس كے بعد كانفرنس سے خطاب كرتےہوئے ايرانی ثقافتی مركز كے سربراہ محمد اسدی موحد نے امام حسين(ع) كی وصيت كے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ كربلا كے بعد مسلمانوں كی سوچ میں واضح تبديلی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے محمد اسدی نے كہا قيام امام حسين(ع) نے اسلامی معاشرے كو خواب غفلت سے جگايا بالفاظ ديگر رسول اكرم(ص) نے اسلام كی بنياد ركھی اور امام حسين (ع) نے اسے ہميشہ كے لیے محفوظ بنا ديا۔ ايران میں اسلامی انقلاب كی طرف اشارہ كرتے ہوئے انھوں نے كہا كہ امام خمينی (رح) كے قول كے مطابق آج ہمارے پاس جو كچھ بھی ہے اسی محرم و صفر كی بدولت ہے۔ تقريب سے خطاب كرتے ہوئے زيمبيا كے مفتی اسد اللہ موالھ نے نبی اكرم كی حديث حسين منی وانا من حسين احب اللہ من احب حسيناً كی تفسير بيان كرتے ہوئے فلسفہ قيام امام حسين(ع) كے سمجھنے پر زور ديا۔ مسلمانوں كی كمزوری اور مشكلات پر بحث كرتے ہوئے اسد اللہ موالھ نے كہا ان سب مشكلات كا حل امام حسين (ع) كی اقتداء میں موجود ہے۔ زيمبيا كےايك مسلمان رہنما شيخ رشيد پيری نے اپنے خطاب میں كانفرنس كی تعريف كی اور كہا اس قسم كی كانفرنسیں اور اجتماعات باعث بنتی ہیں كہ ہم اسلام كو بہتر طور پر سمجھ سكیں۔ ان كے علاوہ شيخ قاسم كلينو، شيخ علی خميسی، اور شيخ علی باندا نے بھی تقارير كیں اور غزہ پر اسرائيلی حملوں كی مذمت اور اس سلسلے میں ايرانی موقف كی بھر پور حمايت كی۔
360777