بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق ۲۱ فروری ۲۰۰۹ء كو ايرانی پارليمنٹ كے اسپيكر علی لاريجانی نے تركی كے پارليمنٹ كے اسپيكر " كوكسال توپتان" سے ٹيلی فونك گفتگو كی۔ اس گفتگو میں جناب لاريجانی نے دونوں ممالك كے درميان سياسی، ثقافتی اور اقتصادی روابط كی تعريف كرتے ہوئے باہمی دلچسپی كے امور پر مزيد بہتر روابط پر تاكيد كی۔ انھوں نے كہا كہ دنيائے اسلام كے لیے مسئلہ فلسطين بہت زيادہ اہميت كا حامل ہے انھوں نے اظہار خيال كرتے ہوئے كہا كہ غزہ كی پٹی كے لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں سخت مشكلات كا شكار ہیں اسلامی ممالك كی انسانی اور اسلامی ذمہ داری ہے كہ وہ ان مشكلات كو دور كرنے میں اپنا كردار ادا كریں ۔ ايرانی پارليمنٹ كےاسپيكر نے كہا تہران میں عنقريب اسلامی ممالك كے اسپيكرز كی ايك كانفرنس بلائی جائے گی انھوں نے اس گفتگو میں اپنے ترك ہم منصب كو اس كانفرنس میں شركت كی بھی دعوت دی۔ تركی كے پارليمنٹ كے اسپيكر نے بھی اس گفتگو میں فلسطينيوں كی حمايت میں ايران كی سفارتی كوششوں كا شكریہ ادا كرتےہوئے كہا غزہ كے لوگوں كو محاصرے سے آزاد كروانے كے لیے سفارتی كوششوں كو جاری ركھنا چاہیے اور تركی كی پارليمنٹ اس سلسلے میں اپنا كردار ادا كرتی رہے گی۔
367582