بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ سيد احمد خاتمی نے نماز جمعہ كے عظيم اجتماع سے خطاب كے دوران جابر بن عبداللہ انصاری كی حديث كو ذكر كرتے ہوئے كہا كہ پيغمبر اكرم(ص) كے یہ باوفا صحابی نقل كرتےہیں كہ ماہ مبارك رمضان كے آخری جمعہ كو آنحضرت(ص) كی خدمت میں حاضر ہوا جونہی آپ(ص) كی نظر مجھ پر پڑی فرمايا: جابر یہ ماہ مبارك رمضان كا آخری جمعہ ہے اس مہينے سے خدا حافظی كرو اور كہو خدا وند اس ماہ رمضان كو ميری زندگی كا آخری مہينہ قرار نہ دے اور اگر یہ ميری زندگی كا آخری ماہ رمضان ہے تو ہم پر اپنی رحمت و مغفرت نازل فرما۔
خاتمی نے مزيد كہا كہ خداوند كريم كی امام خمينی(رح) پر رحمت وسلام ہو كہ جنہوں نے ماہ مبارك رمضان كے آخری جمعہ كو يوم القدس كا نام ديكر مسئلہ فلسطين كو گوشہ نشينی سے نكال ديا ہے اور عربی مسئلہ قرار دينے كی استكباری سازش كو خاك میں ملاتے ہوئے ايك اسلامی مسئلہ كے طورپر پيش كيا ہے۔
امام جمعہ تہران نے كہا كہ امام خمينی(رح) نے ملت ايران كو دو مظاہرے منعقد كرنے كی نصحيت كی ہے ايك ۲۲ بہمن اور دوسرا قدس كےعالمی دن كی مناسبت سے لہذا امام خمينی(رح) كی یہ نصحيت اس بات كی عكاسی كرتی ہے كہ مسئلہ فلسطين ايك قومی اور اندرونی مسئلہ ہے۔
انہوں نے قدس كے عالمی دن كے موقع پر ايرانی عوام كی بھرپور شركت كا شكریہ ادا كرتےہوئے كہا كہ آج آپ نے خدا كے نزديك پسنديدہ كام كيا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ صہيونی حكومت كے ظالم جلادوں نے قتل عام اورانسانی بدن كے اعضاء كی خريدوفروخت جيسے كام شروع كر ركھے ہیں اور ملت مظلوم فلسطين ۵۰ سال سے ان كے مظالم كا سامنا كر رہی ہے۔
سيد احمد خاتمی نے كہا كہ اوباما كا خيانت آميز منصوبہ كيمپ ڈيوڈ كے منصوبے سے زيادہ شرمناك ہے كہ جس كے تحت ۵۰ لاكھ فلسطينی پناہ گزينوں كو ان كی سرزمين پر نہ آنے ديا جائے اور قدس اسرائيل كے قبضے میں رہے اور یہودی بستيوں كی تعمير اس صورت میں بند كی جائے گی جب اسلامی ممالك اسرائيل كے وجود كو تسليم كر لیں گے۔
انہوں نے آخر میں كہا كہ مسئلہ فلسطين كا واضح راہ حل نظام اسلامی ہے كہ ہر فلسطينی اپنی رائے سے اپنے نظام كو تشكيل دے اور انتخابات كے ذريعے تشكيل پانے والا نظام ہی فلسطينی عوام كا قانونی اور عوامی نظام ہے۔
466679