صہيونی حكومت نے مغرب میں اسلام سے خوفزہ كرنے كا منصوبہ بنايا ہے

IQNA

صہيونی حكومت نے مغرب میں اسلام سے خوفزہ كرنے كا منصوبہ بنايا ہے

فكرونظر گروپ: نيوزی لينڈ كی وكٹوريا يونيورسٹی كے پروفيسر نے مغرب میں اسلام سے خوفزدہ كرنے كے موضوع پر منعقدہ نشست میں كہا ہے كہ مغرب میں اسلام سے خوفزدہ كرنے كا مسئلہ دوسری جنگ عظيم اور صہيونی حكومت كے وجود میں آنے كے بعد رونما ہوئی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق نيوزی لينڈ كی وكٹوريا يونيورسٹی كے پروفيسر آرٹر بيولر نے كہا ہے كہ بعض لوگوں كا یہ عقيدہ ہے كہ اسلام سے خوف اس وقت شروع ہوا جب مسلمانوں نے مشرق وسطی سے مغرب كی طرف ہجرت كی البتہ یہ نظریہ ميری نظر میں صحيح نہیں ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ سترہویں صدی كے بعد سے مغرب والوں نے استعماری سوچ كو پروان چڑھايا اور دوسری جنگ عظيم اور صہيونی حكومت كے قيام كے بعد اسلام سے خوفزدہ كرنے كے مسئلہ كو اٹھايا گيا ہے۔ بيولر نے مزيد كہا كہ مغربی میڈيا میں فقط دين اسلام كو دہشت گردی سےمرتبط جانا جاتا ہے جبكہ ہم دنيا میں ہندو، عيسائی، یہودی دہشت گردی كا بھی مشاہدہ كر رہے ہیں ليكن كبھی بھی اسے یہودی دہشت گردی يا عيسائی دہشت گردی نہیں كہا جاتا ليكن مسلمان اور دہشتگردی كو ايك دوسرے كے ہمراہ خيال كيا جاتا ہے۔
479621