بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق نيوزی لينڈ كی وكٹوريا يونيورسٹی كے پروفيسر آرٹر بيولر نے كہا ہے كہ بعض لوگوں كا یہ عقيدہ ہے كہ اسلام سے خوف اس وقت شروع ہوا جب مسلمانوں نے مشرق وسطی سے مغرب كی طرف ہجرت كی البتہ یہ نظریہ ميری نظر میں صحيح نہیں ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ سترہویں صدی كے بعد سے مغرب والوں نے استعماری سوچ كو پروان چڑھايا اور دوسری جنگ عظيم اور صہيونی حكومت كے قيام كے بعد اسلام سے خوفزدہ كرنے كے مسئلہ كو اٹھايا گيا ہے۔ بيولر نے مزيد كہا كہ مغربی میڈيا میں فقط دين اسلام كو دہشت گردی سےمرتبط جانا جاتا ہے جبكہ ہم دنيا میں ہندو، عيسائی، یہودی دہشت گردی كا بھی مشاہدہ كر رہے ہیں ليكن كبھی بھی اسے یہودی دہشت گردی يا عيسائی دہشت گردی نہیں كہا جاتا ليكن مسلمان اور دہشتگردی كو ايك دوسرے كے ہمراہ خيال كيا جاتا ہے۔
479621