علامہ فضل اللہ نے مسلمان قائدين كے عملی كردار پر علمی تنقيد كا مطالبہ كيا ہے

IQNA

علامہ فضل اللہ نے مسلمان قائدين كے عملی كردار پر علمی تنقيد كا مطالبہ كيا ہے

سياسی وسماجی گروپ: لبنانی شيعوں كے مرجع تقليد علامہ فضل اللہ نے ۱۱ جنوری كو دنيائے اسلام كے موجودہ حالات اور اس كو درپيش چيلنجز كے بارے میں ايك بيانیہ صادر كرتے ہوئے كہا ہے كہ ہم عالم اسلام كے قائدين كے عملی كردار پر منطقی تنقيد كو مسترد نہیں كرتے بشرطيكہ یہ تنقيد علمی اور تعصب اور انتقام سے خالی ہو۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ لبنان كی رپورٹ كے مطابق علامہ فضل اللہ نے اپنے بيانیے میں اسلامی گروپوں كے نمائندوں سے مطالبہ كيا ہے كہ وہ امت اسلام میں اندرونی كمشمكش اور مذہبی اختلافات كو روكنے كے لئے كوششیں كریں كيونكہ مذہبی اختلافات فقط اسلامی گروپوں كے درميان تعلقات كو مشكل بناتے ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ امت اسلام كی موجودہ صورت حال اور سياسی اختلافات اسلامی اور عربی ممالك كی وحدت كے لئےخطرہ ہیں اور مسلمانوں كے درميان مذہبی كشيدگی اور اختلافات ايسی غلطيوں سے عكاسی كرتے ہیں جن كا بعض گروپ ارتكاب كرتے ہیں۔
اس بيانیے میں مزيد آيا ہے كہ ہم ايسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں كہ مسلمان قائدين كے عملی كردار كے منطقی تنقيد اور مسترد نہیں كرتے بشرطيكہ یہ تنقيد علمی اور موضوعی ہو اور تعصب اور انتقام سے خالی ہو كر كيونكہ قرآن كريم فرماتا ہے۔ "ولا تجادلوا اہل الكتاب الا بالتی ھی احسن" اہل كتاب سے فقط احسن انداز سے مجادلہ كرو۔
522468