بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا'' شعبہ علاقہ بالكان كی رپورٹ كے مطابق اس مقالے كے بعض حصوں میں آيا ہے كہ غزہ پر ہونے والے حملوں میں زيادہ تر بچوں اور عام لوگوں كو نشانہ بنايا گيا ہے جو صہيونی حكومت كی ناكامی اور بے رحمی كی علامت ہیں۔
كيونكہ یہ بچوں، جوانوں اور عورتوں كے خلاف جنگ ہے۔
سوال یہ ہے كہ كيا حكومت حماس، ملت فلسطين كی منتخب حكومت نہیں ہے؟
آلبانوی مسلمان رائٹر نے اس مقالے میں مزيد لكھا ہے كہ حكومت حماس كے لئے كيوں مشكلات كھڑی كی گئیں اور میڈيا میں كہا جاتا ہے كہ یہ جنگ تحريك اسلامی حماس كو نابود كرنے كے لئے ہے ليكن حقيقت اس كے برعكس ہے كيونكہ رپورٹ كے مطابق اس جنگ میں اكثر مارے جانے والے عام لوگ ہیں بلكہ ان میں سے زيادہ تر بچوں، خواتين اور بوڑھے لوگوں كی تعداد ہے اور اس جنگ میں فقط عام لوگ مارےگئے ہیں۔
اس مقالے میں مزيد آيا ہے كہ اس سے بڑی بات كيا ہو سكتی ہے كہ امريكہ میں اسرائيلی سفير كہتا ہے كہ بعض عربی ممالك بھی ان حملوں كی حمايت كرتے ہیں۔
534743