بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ مركزی كی رپورٹ كے مطابق بعض لوگ یہ خيال كرتے ہين كہ انسان اگر محكم ايمان اور پاكيزہ باطن ركھتا ہو تو یہی كافی ہے لہذا ظاہری شكل وصورت جيسی بھی ہو معيوب نہیں ہے جبكہ اسلام كی نظر میں اس قسم كا گمان باطل ہے بلكہ اس كے بالعكس اسلامی دستورات اور تعليمات كا ايك حصہ ظاہری شكل وصورت كی زينت اور لباس اور چہرے كی نظافت پر مشتمل ہے۔
اسلام میں اس مسئلے كے بارے میں اتنی تاكيد اس بات كی عكاسی كرتی ہے كہ اگر انسان باايمان ہو تو اس ايمان كی ظاہری علامات یہی ظاہری زينت اور زيبائی ہے اور لوگ سب سے پہلے اس كی ظاہری نظافت اور پاكيزگی كو ديكھتے ہیں۔
بنابریں مومن شخص اپنی ظاہری زينت اور سجاوٹ سے لوگوں كو اپنی طرف جلب كرے اور پھر اپنے ايمان كی ان پر تاثير ڈال سكتا ہے۔
حقيقی بات یہ ہے كہ تمام انسان ظاہری زينت اور سجاوٹ كو پسند كرتے ہیں كيونكہ انسان كی باطنی حسوں میں سے ايك حس كا نام حس زيبائی ہے بنابریں اگر نظافت اور پاكيزگی كا خيال نہ ركھا جائے تو انسان نے فطرت كے خلاف عمل كيا ہے اور جوشخص انسانوں كی فطرت كے مطابق عمل نہیں كرتا وہ كبھی بھی لوگوں كا محبوب واقع نہیں ہو سكتا۔
پس بنابریں لوگوں كی رضاٰت كو جلب كرنے اور ان كا محبوب بننے كے لئے اپنے آپ كو منظم كرنا اور اپنے لباس كو صاف وستھرا اور ظاہری شكل وصورت كو زينت دينی چاہیے۔
قرآن كريم فرماتا ہے اے آدم كی اولاد مسجد جاتے وقت اپنی زينت كا خيال ركھو اور كہہ دو كہ كس نے اپنے بندوں كے لئے الہی زينتوں كو خلق كيا ہے اور پاكيزہ رزق كو حرام كيا ہے۔(۱)
یہ آيات اس بات كی عكاسی كرتی ہیں كہ مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ پاك وپاكيزہ لباس پہنیں، بالوں كو كنگھی كریں اور عطر اور خوشبو استعمال كریں اور اپنے اوپر ان نعمتوں كو ہرگز حرام نہ كریں بلكہ ان سے احسن طريقے سے استفادہ كریں۔
رسول اكرم(ص) فرماتے ہیں جس چيز كی تم قدرت ركھتے ہوئے اس سےاپنی نظافت كرو كيونكہ خداوند متعال نے اسلام كی بنياد نظافت اور پاكيزگی پر ركھی ہے اور پاكيزہ وپاك انسان كے علاوہ كوئی انسان جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
ايك روايت میں امام صادق(ع) سے كسی شخص نے آيت "و امابنعمھ ربك فحدث" كے بارے میں سوال كہا كہ آيت میں نعمت كو ظاہر كرنے كا كيا مطلب ہے؟ تو امام(ع) نے فرمايا اپنے لباس كو پاكيزہ ركھے، اپنے آپ كو خوشبو لگائے، اپنے گھر كو صاف ركھے اور اپنے گھر كو جاڑوپھير كر صاف ستھرا ركھے(۲)۔
اسی طرح روايت میں ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) آئينہ میں اپنے چہرے كو ديكھتے تھے اور اپنے بالوں كو كنگھی كرتے اور بعض پانی میں ديكھ كر اپنے بالوں كو مرتب ركھتے اور اپنے گھروالوں كے علاوہ اصحاب كے لئے بھی اپنے آپ كو آراستہ فرماتے اور آپ نے فرمايا ہے كہ خداوند اپنے بندوں سےیہ چاہتا ہے كہ وہ اپنے بھائيوں كے پاس جانے كے لئے اپنے آپ كو آمادہ كرےاور صاف پاكيزہ كرے" اس قسم كے فرامين اس بات كی عكاسی كرتے ہیں كہ اسلام كی نظر میں نظافت اور پاكيزگی كی بہت زيادہ اہميت ہے اور ان دستورات پر عمل كرنے كے ذريعے خداوند متعال كا قرب حاصل ہوتا ہے كيونكہ خداوند متعال قرآن كريم میں فرماتا ہے: "ان اللہ يحب المتطھرين"
انبياء(ع) عظيم دانشور اور دنيا كے تمام ماہرين نفسيات كا عقيدہ ہے كہ بھلائی اور نيكی سے زيادہ بہتر كوئی صفت اور مال خرچ كرنے اور ضرورتمندوں كی دستگيری كرنے سے زيادہ عمل بہتر نہیں ہے كيونكہ آدمی كی خصلت اس قسم كی ہے كہ وہ نيك لوگوں سے محبت اور بخيل اور برائی كونے والوں سے نفرت كرتا ہے۔
574677