حكومت مصر اس ملك كے شيعہ دانشوروں كے ايران كے ساتھ تعلقات سے خوفزدہ ہے

IQNA

حكومت مصر اس ملك كے شيعہ دانشوروں كے ايران كے ساتھ تعلقات سے خوفزدہ ہے

سياسی گروپ: مصری حكومت اس ملك كے شيعہ دانشوروں، مولفين كے اسلامی جمہوریہ ايران كے محققين اور دانشوروں سے تعلقات سے خوفزدہ ہے اور وہ مصر میں موجود شيعہ شخصيات پر دباؤ ڈال كر ان ثقافتی تعلقات كی تقويت پر پابندی لگاتی ہے۔
شيعہ قرآنی محقق اور قاہرہ كے "النور" قرآنی ريسرچ سنٹر اور مصر كے آل البيت كونسل كے مركزی دفتر كے ركن "محمود جابر" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے ٹيلی فونك بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ ۱۰ جولائی كو مصر كے سيكورٹی حكام كی جانب سے ان كے تہران كے سفر پر پابندی كے اقدام كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ اس اقوام كے اہداف میں سے مصر كے سيكورٹی حكام كا مختلف عناصر سے متاثر ہونا اور مصر كے شيعہ رائٹروں اور محققين كے ايران كے ساتھ تعلقات سے خوفزدہ ہونا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ حكومت مصر اس ملك میں شيعہ تفكر كی ترويج سے خوفزدہ ہو كر مكتب اہل بيت(ع) كے چاہنے والوں پر مختلف قسم كی پابندی لگا رہی ہے۔
انہوں نے كہا كہ حكومت مصر قاہرہ كے "النور" قرآنی ريسرچ سنٹر كو شيعہ اور اہل بيت(ع) كے تفكر كی ترويج كا مقام جانتی ہے جبكہ یہ فقط ايك قرآنی سنٹر ہے اور میں تقريباً تين سال سے اس سنٹر كی سرگرميوں كی وجہ سے دباؤ كا شكار ہوں اور اس وقت میں كوئی كتاب شائع نہیں كر سكتا۔
محمود جابر نے آخر میں ۱۰ جولائی كے اقدامات كی تفصيل بيان كرتے ہوئے كہا قاہرہ ائرپورٹ كے سيكورٹی حكام نے مجھے دوسری مرتبہ تہران كے سفر سے منع كيا ہے اور نامعلوم سيكورٹی فورسز كی جانب سے ميرے ويزے كو ضبط كر ليا گيا ہے اور مجھے تقريباً ۴ گھنٹے قيد میں ركھا ہے۔
613240