اسلام میں شخصيت كا معيار تقوی ہے، سيد موسی بلاديان

IQNA

اسلام میں شخصيت كا معيار تقوی ہے، سيد موسی بلاديان

سياسی و سماجی گروپ: اقامہ نماز كونسل خوزستان كے سربراہ نے كہا ہے كہ اگر دل سياہ ہو تو قرآن مجيد كا نور اس میں داخل نہیں ہوتا اور دل كی سياہی دور كرنے كے لیے تقوی سے مزين ہونا بہت ضروری ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق اقامہ نماز كونسل خوزستان كے سربراہ سيد موسی بلاديان نے ايكنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصی گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اسلام میں ہو شخصيت كا معيار تقوی ہے۔
قرآن مجيد كا نور سياہ و تاريك دلوں میں نہیں جاتا اسی لیے قرآن مجيد میں تقوی اختيار كرنے كی بہت زيادہ تاكيد كی گئی ہے۔
انہوں نے كہا كہ تقوی كی مختلف اقسام ہیں: مالی تقوی، سياسی تقوی ، جسنی تقوی و ۔۔۔ متقی انسان حق و باطل كو پہچان سكتا ہے، ہدايت و گمراہی كو تشخيص دے سكتا ہے۔نيكی و خوبی میں تميز كرنے كی صلاحيت ركھتا ہے۔ حلال و حرام كو جدا كرسكتا ہے۔ پس زندگی كے نشيب و فراز میں تقوی انسان كی رہنمائی و ہدايت كرتا ہے۔
678511