امام خمينی سياست ،عرفان اور فقاہت کا كامل مجموعہ تھے

IQNA

امام خمينی سياست ،عرفان اور فقاہت کا كامل مجموعہ تھے

فكرگروپ : حجۃ الاسلام و المسلمین استاد فعالی نے کہا ہے کہ خالص اسلامی عرفان كے علمبرداروں میں امام خمينی كے مانند كسی دوسری شخصيت كی مثال نہیں ملتی جس نے زمانہ غيبت سے لے کر عصر حاضر تك سیاست ،فقاہت اور عرفان کو ايك جگہ جمع کیا ہو ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بيان كے ساتھ كہ قرآن اور حديث خالص اسلامی عرفان كا منبع و ماخذ ہیں خيال ظاہر كيا ہے كہ اسلامی عرفان كا تيسرا منبع دعائیں ہیں ۔ درحقيقت دعا بھی خالق اور مبدا ہستی كے ساتھ منجات پر مشتمل حديث ہے ، ليكن اس كی اہميت كے پیش نظر اس كو تيسرے ماخذ كے طور پر جدا ذكر كيا گيا ہے ۔ عرفان میں دعا كی اہميت اور تاثير کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا ممکن ہے کہ خالص عرفان ؛ يعنی دعائے ابوحمزہ ثمالی ، عرفہ كے دن امام حسين﴿ع﴾ كی مناجات ، مناجات خمس عشر میں امام سجاد﴿ع﴾ كے راز و نياز، دعائے كميل اور ندبہ وغيرہ خلاصہ یہ كہ خالص عرفان ؛ يعنی شيخ عباس قمی كی كتاب مفاتيح الجنان !.
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ اگر دعا عرفان نہیں ہے تو پھر عرفان بھی كچھ نہیں ہے اظہار خيال كيا ہے كہ عرفان يعنی خدا كے ساتھ ایسی گفتگو جو دعاؤں كی صورت میں واضح طور پر خودنمائی كر رہی ہے ۔ كتاب مفاتيح الجنان، سيد بن طاؤوس كی كتاب "اقبال الاعمال" كا خلاصہ ہے اور سيد بن طاؤوس شيعہ عرفان کی تاريخ میں دعا اور مناجات كے حوالے سے ايك اسطورہ شمار ہوتے ہیں ۔ تاريخ اسلام میں اسلامی عرفان كے حوالے سے دسيوں كتابیں لكھی گئی ہیں ليكن ايك كتاب بھی شيعہ عرفان کی تاريخ كے عنوان سے موجود نہیں ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ اگر شيعہ عرفان كے حوالے سے كوئی كتاب لكھی جائے گی تو يقيننا سيد بن طاؤوس كا ذكر سنہری حروف میں كيا جائے گا كيونكہ ان كی ۴۹ كتابوں میں ١۹ كتابیں دعا کے موضوع پر ہیں ۔ ان كی شاہكار كتابوں میں سے ايك "اقبال الاعمال "ہے ۔ جس كسی نے بھی عرفان سے متعلق كوئی كتاب لكھی ہے تو اقبال الاعمال کو اپنی کتاب کی اساس قرار دیا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ ہمارے دينی منابع میں عرفان ہر انحراف سے پاك، صحيح و سالم موجود ہے كہا ہے كہ جس دن ہمارے دين میں موجود عرفان كے لطيف نكات كو كشف كیا گیا اور ان کا نوظہور عرفانی تحریکوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا تو ہم اس بات كا مشاہدہ كریں گے كہ انٹونی رابنز، وين ڈاير ، اسپنسر جانسن، جانگری، ٹريسی ،ديپك چوپڑا، كمفيل جيسے عرفان كے دعويدار انگشت بہ دندان رہ جائیں گے ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ "كاميابی" كے عنوان سے بہت زيادہ كتابیں لكھی اور ترجمہ كی گئی ہیں كہا ہے كہ "رابنز" كی ۳۰ كتابوں كا فارسی زبان میں ترجمہ ہو چكا ہے ۔ اس كی مہم ترين كتاب "كاميابی كی جانب حركت " کی ١۷مختلف اشاعتیں منظر عام پر آ چكی ہیں۔ مسيحی عرفان كی ترويج میں كوشاں "كيتھرين پانڈر" كی بھی ۷ كتابوں میں سے بعض كے عناوين "دل كی آنكھ كو كھولو" اور"عشق كی حكومت" ہیں اور ان کو ١١ مترجمين كی جانب سے مختلف ناموں سے شائع كیا گیا ہے ۔
انہوں نے واضح كيا : خالص اسلامی عرفان كے دوسری قسم میں بحث عرفان كے علمبرداروں سے مربوط ہے جو دو دستوں متقدمين اور متٲخرين میں تقسيم ہوتے ہیں ۔ شيعہ عرفان كے علبرداروں میں شيخ جعفر شوشتری، ميرزا حسين‌قلی همدانی، بهاری همدانی، سيد احمد كربلايی، ميرزا جوادآقا ملكی تبريزی، آيت‌الله شاه‌آبادی، آيت‌الله سيدعلی‌آقا قاضی طباطبايی، علامه طباطبايی و امام‌خمينی(ره﴾ كے نام قابل ذكر ہیں۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ امام خمينی نے ۵ سال تك مرزا جواد آقا ملكی تبريزی كی شاگردی كی ہے واضح کیا ہے كہ مرزا جواد ملكی تبريزی بہت قيمتی كتابوں كے مصنف ہیں ان كی مہم ترين كتابوں میں سے "المراقبات " ، "رسالة لقاء اللہ " اور"اسرار نماز" قابل ذكر ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ خالص اسلامی عرفان كے علمبرداروں میں سے ايك شخص اہل سياست ہو يعنی ايك بہت بڑی سياسی تحریک كا بانی اور رہنما ہو ، فقاہت يعنی اپنے زمانے میں ايك اعلم مرجع كی حيثيت رکھتا ہو اور اس کے علاوہ عرفان كی بلنديوں پر فائز ہو ، زمانہ غیبت سے لے کر عصر حاضر تک امام خمينی كے علاوہ كسی بھی دوسری شخصيت كی مثال نہیں ملتی جس نے ان تين خصوصيات كو ايك جگہ جمع كيا ہو ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ عرفان كے حوالے سے امام خمينی ﴿رح﴾ كی ٦ مہم ترين كتابیں مندرجہ ذيل ہیں : دعائے سحر، سر الصلاۃ ،شرح جنود عقل و جھل ، كتاب اربعين، مصباح الھداية الی الخلافة و الولاية خيال ظاہر كيا ہے كہ آيت اللہ جوادی آملی نے اپنی عمر مبارك كے ٦۴ سے ۷۰ سالوں كے دوران رائج عرفانی متون كی بنياد پر عرفان كی اس طرح تدريس كی ہے كہ جب ايك مبحث اپنے اختتام كو پہنچتا تھا تو اس کی شرح كرتے تھے ان كی یہ شرح دو كتابوں كی بنياد پر تھی جن میں سے ايك "مصباح الھداية الی الخلافة و الولاية" تھی ۔ آيت اللہ جوادی آملی اس كتاب كے بارے میں بہت احترام كے قائل ہیں۔
حجة الاسلام و المسلين فعالی نے واضح كيا : آيت اللہ جوادی آملی نے چند سالوں كے دوران ۲۰ سے زائد مرتبہ اس بات كا تكرار كيا ہے كہ امام﴿رح﴾ نے اس كتاب میں كچھ ايسے مطالب ذكر كیے ہیں جو ميری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جالب ترين نكتہ یہ ہے كہ امام خمينی﴿رح﴾ نے اس كتاب كو ۲٦ سال كی عمر میں تحرير كيا ہے ۔ یہ كتاب اسلامی عرفان كی مہم ترين شخصيت محی الدين عربی﴿سن وفات ٦۳۷﴾كے نظريات کا رد اور حاشیوں پر مشتمل ہے ۔
910885