تاجكستان ؛ پبلك ٹرانسپورٹ میں دينی مسائل كے ذکر پر پابندی

IQNA

تاجكستان ؛ پبلك ٹرانسپورٹ میں دينی مسائل كے ذکر پر پابندی

سياسی اور سماجی گروپ : جمہوری تاجكستان كی حكومت نے اسلام مخالف سياسی پاليسيوں كو جاری رکھتے ہوئے ملكی سطح پر پبلك ٹرانسپورٹ میں ہر قسم كے دينی وعظ يا امر بالمعروف كی ممنوعيت كا اعلان كيا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے شعبہ مركزی ايشيا ، كی رپورٹ كے مطابق ملك كی ٹريفك پوليس كے ڈپٹی "عبيد اللہ رحمان اف" نے ١۷ اپریل كو اعلان كيا ہے كہ نئے قوانين كے مطابق پبلك ٹرانسپورٹ میں علماء اور دينی شخصيات كی جانب سے بلند آواز میں وعظ و نصيحت كو ممنوع قرار ديا گيا ہے ۔
انہوں نے واضح كيا ہے كہ نئے قانون میں انتظامی خلاف ورزيوں پر مبنی سابقہ سزاؤں كو مدنظر ركھا گيا ہے جن كی بنياد پر قانون شكنی كرنے والوں كو مجرم قرار دیتے ہوئے مبلغ ۸۰ سے ١۲۰ سامانی﴿تاجك كرنسی﴾ تك كے جرمانے كی سزا دی جائے گی ۔
قابل ذكر ہے كہ تاجكستان كی پبلك ٹرانسپورٹ میں كام كرنے والے بيشتر ڈرائيور حضرات معروف علماء اور دينی شخصيات كے وعظ و نصيحت كے ساتھ مسافروں کے خاص لگاؤ كے پیش نظر طولانی سفروں كے دوران مذہبی خطابات كی كيسٹوں سے استفادہ كرتے ہیں ۔
989620