تاجيكستان میں مذہبی سرگرميوں كے خلاف قانون كی منظوری

IQNA

تاجيكستان میں مذہبی سرگرميوں كے خلاف قانون كی منظوری

سياسی و سماجی گروپ: جمہوریہ تاجكستان كی پارليمنٹ نے مذہبی سرگرميوں كے خلاف نئے قانون منظور كئے ہیں۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق اس قانون كے تحت حكومتی سكولوں میں تبليغ كو ممنوع قرار ديا گيا ہے . اس كے علاوہ تاجكستان كے وہ شہری جو حكومت كی اجازت كے بغير غير ملكی اسلامی مدارس میں تعليم حاصل كریں گے انہیں دو سے چار ہزار سامانی ﴿ تاجكستانی كرنسی﴾ جرمانہ ہوگا۔
یہ قانون پارليمنٹ كے تيسرے جلسے میں 6 جون كو منظور ہوا اس كے تحت ملكی مذہبی تنظيمیں حكومتی اداروں كی ہم آہنگی اور اجازت كے بغير غير ملكی تنظيموں يا اداروں سے رابطہ نہیں ركھ سكیں گے ۔ ياد رہے كہ پارليمنٹ میں تحريك اسلامی كے نمائندوں محی الدين كبيری سيد حسينی نے اس بل كی مخالفت كی تھی۔
1025341