ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق اس مسجد كو اس ملك كے مسلمانوں نے سال 1319 ھ ق میں تعمير كيا تھا۔ ليكن وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ اس ملك كے دوسرے شہريوں نے مسلمانوں پر سختی كا بازار گرم كرنا شروع كرديا۔
اسی طرح بہت سے مسلمانوں نے ويتنام كے شمالی علاقوں سے جنوب كی طرف ہجرت كی تھی، ليكن كچھ مسلمان اس مسجد كی حفاظت كی خاطر وہیں رك گئے۔
واضح رہے كہ یہ مسجد سات سو مربع میٹر پر مشتمل ہے، اور آج بھی اس مسجد میں مذہبی تقريبات اور يومیہ عبادات كا باقاعدگی سے انعقاد كيا جاتا ہے۔
ياد رہے كہ اس ملك كی كل آبادی 9 كروڑ كے قريب ہے۔ جبكہ مسلمانوں كی آبادی 73 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جو كہ انتہائی كم ہے۔
1137514