گذشتہ سال افغانستان میں منشيات كی پيداوار تقريبا" چار ہزار ٹن تھی اور یہ مقدار بڑھ كر اس سال 6100 ٹن ہوگئی ہے۔اس رپورٹ كےمطابق گذشتہ سال ايك لاكھ چار ہزار ايكڑ زمينوں پر خشخاش بوئی گئی تھی ليكن اس سال منشيات كی كاشت ايك لاكھ پينسٹھ ہزار ايكڑ زمين پر ہوئی ہے ۔
قابل ذكر ہےكہ افغانستان میں منشيات كی پيداوار میں اضافے كےبارے میں یہ رپورٹ ايسے عالم میں سامنے آئی ہے جبكہ افغان صدر اوراس ملك میں تعينات غير ملكی افواج نےمنشيات كی پيداوار اور اسمگلنگ پركنٹرول كرنے كے لئے بلند بانگ دعوے كئے ہیں اور یہ پروپيگنڈا كيا ہےكہ گذشتہ سال خشخاش كے اكيس فی صد كھيت تباہ كردے گئے ہیں ۔
دوسری طرف بعض مبصرين كا كہنا ہے كہ منشيات كی تجارت طالبان اوردہشت گردوں كے لئے آمدنی كا اہم ترين ذريعہ ہے اوریہ لوگ اپنی فوجی ضرورتوں كو منشيات كی تجارت سے پورا كرتے ہیں اور چونكہ افغانستان میں غربت وافلاس كا دور دورہ ہے لہذا عوام كومنشيات كی كاشت كرنے پر اكساتے ہیں -