افغانستان كی پارلمان كے سربراہ يونس قانونی نے كہا ہے كہ پاكستان افغانستان میں عدم استحكام پھيلانا چاہتا ہے ۔يونس قانونی نے لی مون اخبار سے گفتكو كرتے ہوئےكہا كہ افغانستان كے بارے میں اسلام آباد كی حكمت عملی میں كوئی تبديلی نہیں آئی ہے اور یہ ملك طالبان كی حمايت كركے افغانستان پر اپنا تسلط قائم كرنا چاہتا ہے ۔
يونس قانونی نے جنوبی افغانستان میں طالبان كی تازہ كارروائيوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ طالبان سنہ دوہزار دو كی نسبت بہتر پوزيشن میں ہیں كيونكہ انہیں مختلف حلقوں بالخصوص ايك ملك كی جانب سے بھر پور مدد مل رہی ہے ۔
يونس قانونی نے اس سوال كے جواب میں كہ كيا طالبان كی كارروائيوں سے كابل حكومت كو كوئی خطرہ لاحق ہے كہا كہ درحقيقت حكومت و عوام كے درميان فاصلہ پيدا ہوچكا ہے اور عوام مايوسی كاشكار ہیں ۔انہون نے كہا كہ اس صورت حال سے طالبان كو فائدہ پہنچ سكتا ہے