مقام معظم رهبری: اسلامی اصولوں سےتمسك كی وجہ سے نظام اسلامی سربلند ہے –

IQNA

قاﺋد انقلاب اسلامی:

مقام معظم رهبری: اسلامی اصولوں سےتمسك كی وجہ سے نظام اسلامی سربلند ہے –

سياسی گروپ: اسلامی اصولوں اور عوام سے تمسك نے ہی اسلامی حكومت كو سربلند كيا ہوا ہے اور یہ سربلندی خطہ كے دوسرے ممالك اور اقوام كے لیے كسی قسم كے خطرہ كا باعث نہیں –

ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)كی رپورٹ كے مطابق قاﺋد انقلاب اسلامی نے بدھ كے روز اسلامی حكومت كے تمام عہدہ داروں سے خطاب كيا :انہوں نے ماہ مبارك رمضان كو انسان كی ہدايت اور تكامل كا موسم قرار ديا اور تمام حكومتی عماﺋدين كو آپس میں متحد اور منجسم رہنے كی تلقين كی . اسی طرح انہوں نے عوام اور سياسی جماعتوں كو بھی مجلس خبرگان اور اسلامی بلدياتی كونسلوں كے انتخابات میں متحد رہنے اور شفاف انتخابات كے منعقد كرنے كو سب كی ذمہ داری قرار ديا –
انہوں نے رمضان المبارك كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوۓ كہا :روزہ دو قسموں پر مشتمل ہے روزہ جسم اور روزہ جان. روزہ جسم یہ ہے كہ انسان اپنے اعضاء و جوارح كو معصيت خداوند سے محفوظ ركھے اور اس كی آنكھ ،ہاتھ اور كان سے كوئی گناہ سرزد نہ ہونے پاۓ اور روزہ جان یہ ہے كہ انسان اپنے دل كو اخلاقی رزاﺋل سے پاك كرے اور یہ مبارك مہينہ برائی كے عوامل اور اسباب كے قلع قمع كرنے كا مہينہ ہے اور حكومتی عہدہ دار علی الخصوص اس پر بركت مہينہ سےبهر پور استفادہ كرتے ہوۓ اس راہ میں زيادہ جدوجہد كریں-
انہوں نے مزيد كہا:جب یہ اسلامی حكومت كسی معاملہ پر اپنی پاليسی كا اعلان كرتی ہے تو سب كو اس پاليسی پر متحد اور يك جان ہونا چاہیے اور آج تك ايسے ہی ہوا ہے اور انشاء اللہ آﺋندہ بھی ايسے ہی ہوگا. انہوں نے احمدی نژاد كی حكومت كو سراہتے ہوۓ كہا: صدر مملكت كی عزت و وقار محفوظ رہنا چاہیے اور اگر كسی كو ان كی كسی پاليسی سے اختلاف ہے تو وہ انتہائی شفاف انداز میں حكومت كے ذمہ دار افراد تك اپنا اعتراض پہنچاۓ.
ليكن حكومت كی كسی بات كو بنياد بنا كر اسے میڈيا میں ايك ہتھيار كے طور پر استعمال كركےحكومت كی بدنامی كرنا بالكل صحيح نہیں ہے –
انہوں نے تينوں مركزی اداروں يعنی عدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ كو كمزور كرنے كی مذمت كرتے ہوۓ كہا: ان كی كسی پاليسی پر تعميری اعتراض كرنا اور ہے اور انكی كاركردگی كو برے انداز میں پھيلانا اور ہے .اور یہ دوسرا كام ہماری نظر میں بالكل صحيح نہیں ہے-
انہوں نے حكومتی عہدہ داروں كے ايك دوسرے سے گلے شكوٶں میں زيادہ روی كو غلط قرار ديتے ہوۓ كہا : ان باتوں كو عوام میں لے جانا بہت بڑی غلطی ہے كيونكہ ايرانی عوام كا كوئی قصور نہیں كہ آپ انكے دلوں كو اپنے گلے شكوٶں سے ٹھيس پہنچاﺋیں.