ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) سے بات چيت كرتے ہوۓ شھيد بھشتی يونيورسٹی میں واقع دفتر رھبری كے سربراہ حجۃ الاسلام نقويان نے كہا: علاقے كے بعض ممالك امريكہ اور اسراﺋيل كے مقروض ہونے كی وجہ سے لبنان كی اس آخری جنگ میں خبروں كو نقل كرنے كی بھی جرأت نہیں كرتے تھے-
اور حال حاضر میں حماس جيسی قانونی حكومت كی حمايت كركے اپنے منافع كو نقصان بھی نہیں پہونچانا چاہتے-
انہوں نے كہا:قرآنی تعليمات كے مطابق اگر كوئی مظلوم مسلمان كی فرياد كو سنے اور اس كی مدد كے لیے آگے نہ بڑھے تو وہ مسلمان نہیں ہے-
لبنان كی اس جنگ میں بھی ہم نے علاقے كے بعض ممالك كی جو روش ديكھی ہے وہ قرآنی تعليمات اور سنت پيغمبر ۖ كے بالكل برخلاف ہے
حجۃ الاسلام نقويان نے كہا:ابھی بھی موقع ہے كہ مسلمان ہوش كے ناخن لیں اور قيمتی ذخاﺋر كو پہچانتے ہوۓ اغيار كی مدد سے ہاتھ اٹھا لیں كيونكہ عالمی استكبار سے اميد ركھنا مسلمانوں كی بہت بڑی غلط فہمی ہے –جيسا كہ شاہ ايران اور صدام كے بارے میں پوری دنيا نے ديكھا كہ جب وہ مشكلوں میں گھرے تو عالمی استكبار كی طرف سے كوئی حمايت سامنے نہیں آئی-