ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق مرجع عاليقدر آيت اللہ موسوی اردبيلی نے كہا:قرآنی دعاﺋیں خاص اھميت كی حامل ہیں اور انسان كو چاہیے كہ ہميشہ ان دعاٶں كيساتھ انس پيدا كرے تاكہ تقرب الہی حاصل كرسكے –انہوں نے آداب دعا بيان كرتے ہوۓ مزيد فرمايا كہ ،خضوع و خشوع ،حضور قلبی ،تقوی الہی،خدا كی رحمانيت و رحمت كی طرف خاص توجہ ،نيز عذاب اخروی كا خوف منجملہ دعاكے آداب میں سے ہیں لہذا ہر انسان كو چاہیے كہ انہیں دعا میں ملحوظ خاطر ركھے-
مرجع تقليد نے دعا كے اوقات كے بارے میں فرمايا:روز عرفہ ،ماہ مبارك رمضان ،روز جمعہ ،نصف شب،نماز تہجد كے وقت ،باران الہی كے نزول كے وقت ،قراﺋت قرآن اور سجدہ كے دوران كہ انسان قرب الہی میں ہوتا ہے یہ وہ اوقات شريفہ ہیں كہ جن میں دعا مستجاب ہوتی ہے-
آخر میں آيت اللہ موسوی اردبيلی نے فرمايا كہ تمام بركات و خيرات كا سرچشمہ ذات الہی ہے-
لہذا توكل علی اللہ ،خلوص، عجز وانكساری كيساتھ اس سے طلب كيا جاۓ-اور رحمت الہی كو مد نظر ركہا جاۓ اسماء حسنی اور صفات حسنی در حقيقت خدا كے لیے ہیں ان میں سے كسی ايك كيساتھ رب جليل كو پكارا جاسكتا ہے -