ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے رسا نيوز سے نقل كيا ہے كہ حضرت آيت اللہ العظمیٰ شيخ جواد تبريزی كی تشييع جنازہ میں سينكڑوں مجتھدين مرحوم كے ہزاروں شاگردوں اور لاكھوں عقيدت مندوں نے شركت كی ـ یہ كم نظير تشييع جنازہ تھی جس میں شركاء اشك بار تھے ايك طويل تشييع جنازہ كے بعد آپ كا تابوت جب معصومہ قم كے حرم میں پہنچا تو ہر طرف سے آہ و بكا بلند ہوئی ـ معصومہ قم كے حرم میں آيت اللہ العظمیٰ شيخ وحيد خراسانی نے نماز جنازہ پڑھائی ـ اس كے بعد مرحوم آيت اللہ العظمیٰ تبريزی نے اپنی رحلت چند سے لمحے پہلے اپنے شاگردوں ، مقلّدين اور سلسلہ جليلہ روحانيت اور عاشقان اہل بيت كے نام جو پيغام ديا تھا اسے پڑھ كر سنايا گيا اس پيغام میں مرحوم تبريزی نے تقوی الھی كی نصيحت و وصيت كے بعد فرمايا: اہل بيت عصمت و طھارت كا دفاع كرنا آپ سب كی ذمہ داری ہے خصوصاً اہل بيت كی مظلوميت كا پرچار كرنا اور عزاداری سيد الشھداء كو مزيد شان و شوكت سے منانا اور دشمنان اہل بيت كی طرف سے ہونے والے اعتراضات كا جواب دينا سب كی ذمہ داری بنتی ہے ـ میں نے اس ذمہ داری كو ادا كرنے كے لئے بھر پور كوشش كی ليكن پھر بھی امام زمانہ سے معذرت خواہ ہوں ـ
مرحوم آيت اللہ العظمیٰ شيخ تبريزی كو ان كی وصيت كے مطابق كريمہ اہل بيت كے حرم میں حوزہ علمیہ قم كے بانی آيت اللہ العظمیٰ شيخ حائری كے جوار میں سپرد خاك كيا گيا ـ