وزير خارجہ: امام خمينی رہ كی بين الاقوامی اسلامی سياست كا محور٫وحدت تھی-

IQNA

وزير خارجہ: امام خمينی رہ كی بين الاقوامی اسلامی سياست كا محور٫وحدت تھی-

سياسی گروپ: اسلامی اتحاد ٫محروم افراد كے لیے قيام اور احترام متقابل كی بنا پر تعلقات امام خمينی رہ كی بين الاقوامی اسلامی سياست تھی –یہ فكر قائد انقلاب اسلامی كی كلام میں بھی تين تعبيروں ٫عزت ٫حكمت اور مصلحت میں عياں ہے-
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق وزير خارجہ منوچہر متكی نے تہران كے اس ہفتہ كے نماز جمعہ كے خطبوں سے پہلے خطاب میں اسلامی انقلاب كی كاميابی كے ايام كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا:بہمن اور عاشورا كا اكٹھا آنا اور پھر دونوں كا بہار كے ساتھ ملنا انشاء اللہ حق كی باطل پر كاميابی كی نويد ديتا ہے-
انہوں نے كہا:امام حسين ۜ نے عدل و حق طلبی اور ظالموں كے سامنے تسليم نہ ہونے كو انسانيت كے لیے ايك جاودانی درس قرار ديا –
متكی نے انقلاب كے آغاز سے ہی دشمنوں كی سازشوں اور شيعہ و سنی اور قومی اختلاف كو ايجاد كرنے اور پھر جنگ كو مسلط كرنے كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ اس دور میں بھی وہ انہیں ہتھكنڈوں كو استعمال كر رہا ہے –
انہوں نے مزيد كہا: اس طرح كے منصوبوں كا ہدف انقلاب كے امت اسلام كی وحدت پر مبنی پيغام سے مقابلہ كرنا تھا ان كی كوشش تھی كہ وہ جنگ كو فارس اور عرب كی جنگ اور شيعہ سنی كی جنگ میں تبديل كر دیں-
متكی نے نصيحت كی كہ دنياۓ اسلام كو چاہیے كہ وہ چار جوانب سے يعنی اسلامی حكومتیں علماء دانشور اور اسلامی سكالرز اور اسلامی ممالك كے میڈيا كو دشمنوں كی ان سازشوں كو ناكام كرنے كی خاطر پوری كوششیں كریں-
انہوں نے كہا:بين الاقومی سطح میں موجودہ تعلقات كے نظام كوہم غير عادلانہ سمجھتے ہیں كہ جس كی بنياد طاقت و قدرت پر ہے در حالانكہ ہم تعلقات كو حكومتوں كے درميان احترام متقابل كی بنا پر سمجھتے ہیں-
وزير خارجہ نے ۵ ممالك كے لیے ویٹو كے حق كو غير عادلانہ قرار ديتے ہوۓ كہا:ہمارا عقيدہ ہے كہ اقوام متحدہ میں تبديلی آنی چاہیے اور اگر اس حق كو ختم نہیں كرتے تو كم از كم اسلامی ممالك كو او آئی سی كے نام سے ویٹو كا حق ديا جاۓ تاكہ وہ بھی اپنے اعتقادی اور عام مفادات كے اندر رہ كر اس سے استفادہ كریں-