حجة الاسلام ٫٫جوان آراستہ ٬٬نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا سے بات چيت كرتے كرتے ہوۓ كہا كہ دنيا طلبی اور ثروت كو جمع كرنا خاص كر اگر یہ حرام طريقہ سے ہوں تو مذموم ہیں اور اسلام نے طالب دنيا اور نامشروع راستہ سے مال جمع كرنے والے كو درد ناك عذاب كی خبر دی ہے-
جناب آراستہ نے صدقہ عطا كرنے كی تعريف بيان كرتے ہوۓ كہا كہ حقوق كی ادائيگی سے معاشرے میں عدالت برقرار كی جا سكتی ہے اور قرآن مجيد نے انفاق كو تطہير مال كا ذريعہ قرا رديا ہے
انہوں نے كہا كہ قيامت كے دن بنيادی طور سے چار سوالات كۓ جائیں گے جن میں دو سوال مال سے متعلق ہوں گے
مال كہاں سے حاصل كيا
كس جگہ خرج كيا
مركز اديان كے ہيئت علمی كے ركن نے مزيد كہا كہ اگر مال اور دنيا سے دل وابستہ نہ ہو تو دولت حاصل كرنا بہتر ہے –