ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ﴿ايكنا ﴾ نے جنگ نيوز كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ايرانی صدر محمود احمدی نژاد نے وسطی شہر يزد میں عوامی ريلی سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ مغرب ايران كو تنہا كرنے كی كوششوں میں كامياب نہیں ہو گا،انہوں نے كہا كہ مخالفين كے خواب كو پورا نہیں ہونے دينگے،انہوں نے مزيد كہا كہ عالمی طاقتیں ايران كو تنہا كر نے كی كوششوں میں كامياب نہیں ہو سكیں گی اور وہ خود ہی تنہائی كا شكار ہو جائیں گی،انہوں نے كہا كہ ايران پر حملہ كرنے والے جان لیں كہ فطری ردعمل كے طور پر بھرپو جواب ديا جائيگا،انہوں نے ايران كے ایٹمی معاملے پر عالمی طاقتیں تنہا ہو رہی ہیں ايران نہیں۔ ان كا كہنا تھا كہ ايران كا ایٹمی پروگرام جاری رہے گا۔انہوں نے اس عزم كا اظہار كيا كہ عوام ایٹمی توانائی ركھنے كے اپنے حق كا بھرپور دفاع كریں گے۔ ان كا كہنا تھا كہ عالمی طاقتیں ايران كو تنہا كرنا چاہتی ہیں تاہم ايرانی عوام ان كے اس خواب كو پورا نہیں ہونے دیں گے اگر عالمی طاقتوں نے ايران كو تنہا كرنے كی اپنی كوششیں جاری ركھیں تو اس طرح وہ خود تنہا ہو جائیں گے تاہم ايران كے عوام خوفزدہ اور تنہا نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب ايرانی وزير خارجہ منو چہر متقی نے كہا كہ ايران كا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور اس كا ایٹمی ہتھيار حاصل كرنے كا كوئی ارادہ نہیں ہے،انہوں جنيوا میں عالمی كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ ایٹمی ہتھياروں سے مسلح اسرائيل علاقائی اور عالمی امن وسلامتی كيلئے خطرہ ہے اور عالمی برادری كو اسرائيل سے سنجيدہ طور پر نمٹنے كيلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیں وہ ايران كيخلاف سلامتی كونسل كی طرف سے اقتصادی پابنديوں كا حوالہ دے رہے تھے۔ايرانی وزير خارجہ نے كہا كہ یہ بات حيران كن ہے كہ مشرق وسطیٰ میں ایٹمی خطرے كا مركزی ذريعہ بننے والے ملك كيخلاف عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جبكہ ايران كو اس كے پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے حصول كے حق سے محروم ركھنے كيلئے اس پر شديد دباؤ ڈالا جارہا ہے۔