ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق 1386 ھ ش میں تہران كی پہلی نماز جمعہ آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی كی امامت میں ادا كی گئی
جس میں انہوں نے خطبہ جمعہ ديتے ہوۓ كہا كہ قائد انقلاب اسلامی نے ا س سال كو قومی اتحاد اور اسلامی وحدت كا نام دے كر ہم سب كی بہترين راہنمائی فرمائی ہے-
اس لۓ كہ دور حاضر میں ہمارے ملك كو قومی اتحاد كی شديد ضرورت ہے-
انہوں نے عالمی استكبار كے مقابلے میں اتحاد اور يكجہتی كو ملك كا عظيم سرمایہ قرار ديتے ہوۓ كہا كہ اس وقت ہمارے دشمن اقتصادی پابندياں اور نفسياتی جنگ كے ذريعہ ہمیں مرعوب كرنا چاہتے ہیں
مصلحت نظام كونسل كے سربراہ نے وحدت اسلامی كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ مغرب اور عالمی استكبار شيعہ اور سنی كے درميان فرقہ واريت كی ہوا دے كر اختلاف ايجاد كرنا چاہتے ہیں لہذا علماۓ اسلام كو چاہیے كہ وہ ہوشياری سے كام ليتے ہوۓ عوام كو اتحاد و يكجہتی كی طرف دعوت دیں-