ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق بيسویں اسلامی عالمی كانفرنس وحدت اسلامی كے عنوان سے تہران میں منعقد ہوئی جس میں سركار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی سيرت طيبہ پر مختلف دانشوروں نے روشنی ڈالی-
رپورٹ كے مطابق وزير ثقافت محمد حسين صفار ھرندی نے عصر حاصر میں مسلمانوں كی موجودہ صورت حال پر تبصرہ كرتے ہوۓ كہا كہ اس وقت دشمن كے پاس ملت اسلامیہ سے مقابلہ كرنے كا ذريعہ ايجاد تفرقہ ہے-
لہذا مسلمانوں كو بھی دشمن سے مقابلہ كے لیے بھر پور متحد ہونا پڑے گا-
انہوں نے مزيد كہا كہ وحدت كو باقی ركھنے كے لیے ہوشياری سے كام لينا ہوگا-
اسی طرح آيت اللہ محمد علی تسخيری نے تقرير كرتے ہوۓ كہا كہ بگڑے ہوۓ سماج كی تربيت كر كے انہیں بزم نور میں بیٹھنے كے قابل بنا دينا پيغمبر خدا كا معجزہ ہے
انہوں نے سيرت پيغمبرۖ كے متعلق مولاۓ كائنات كی روايت نقل كی جس میں امام علیۜ نے فرمايا كہ پيغمبرۖ وہ طبيب تھے جو اپنے كاموں سے خوب واقف تھے اور پوری توانائی كے ساتھ انہوں نے اپنی ذمہ داريوں كو ادا كيا-