ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق متحدہ مجلس عمل كے چار راہنما جو عالمی تقريب مذاھب كونسل كی دعوت پر بيسویں وحدت اسلامی كانفرنس میں شركت كے لیے تہران آۓ تھے انہوں نے كل قائد ملت جعفریہ پاكستان قم كے دفتر كی دعوت پر شہر قم میں تشريف لاۓ اور مختلف مدارس علمیہ اور كتب خانوں كا دورہ كرنے كے علاوہ مرجع تقليد آيت اللہ مكارم شيرازی سے ملاقات بھی كی
اس وفد كے شركا میں نائب امير جماعت اسلامی پروفيسر ابراہيم خان ٬علامہ عبد الجليل نقوی ٬مولانا عطا الرحمن اور مولانا اسد اللہ شامل تھے
ان راہنماٶں نے دفتر قائد ملت جعفریہ پاكستان قم میں درس خارج میں مشغول طلاب پاكستانی سے خطاب كرتے ہوۓ پاكستان كی سياسی صورت حال اور اتحاد و وحدت كے حوالے سے متحدہ مجلس عمل كی كاركردگی كو بيان كرتے ہوۓ قائد ملت جعفریہ علامہ سيد ساجد علی نقوی كو اتحاد و يكجہتی میں بنيادی اور ايك موثر كردار كے طور پر پيش كيا اور آخر میں مقام معظم رھبری كی طرف سے اس سال كو انسجام اسلامی كا سال قرار دينے پر اظہار مسرت كرتے ہوۓ اس سال كو اتحاد و وحدت كے لیے سنہری موقع قرار ديا-