قائد انقلاب اسلامی :امام خمينی كے افكاراور ان كی شخصيت وہ كلمہ طيبہ ہے جس نے امت اسلامی كو عظمت عطا كی

IQNA

قائد انقلاب اسلامی :امام خمينی كے افكاراور ان كی شخصيت وہ كلمہ طيبہ ہے جس نے امت اسلامی كو عظمت عطا كی

سياسی گروپ :قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں كہا كہ ملت ايران كا مستقبل امام خمينی كی شروع كی ہوئی تحريك اپنے اسلامی ،عوامی اور جدت پسندی كی بناپر ماضی سے كہیں زيادہ تابناك ہے ۔




ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق ايرانی قوم نے اپنے عظيم رہبر حضرت امام خمينی كی اٹھارویں برسی كے موقع پر ان سے تجديد عھد كيا اس موقع پر قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے قوم سے خطاب كيا جس كی تفصيل یہ ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے كھا :امام خمينی كے افكاراور ان كی شخصيت وہ كلمہ طيبہ ہے جس نے امت اسلامی كو عظمت بخشی فرمايا كہ امام خمينی كانام ان كے افكار اور عمل صالح ايران، امت اسلامی اور انسانی معاشروں میں روزبروزتابناك ہوتا جارہا ہے آپ نے فرمايا كہ مردان الھی كی بقا اور دلوں پر حمكرانی كا رازیہ ہے كہ وہ صرف خدا سے لولگاے رہتے ہیں آپ نے فرماياكہ امام خمينی كے معنوی اقتدار اور عظمت اور گہری تاثير كا رازبھی یہی ہے كہ آپ نے صرف و صرف خدا كے لۓكام كيا اسی كی راہ میں جھاد كيااور خدا نے بھی جيسا كہ قرآن میں وعدہ فرمايا ہے ہميشہ ان كا ساتھ ديا ۔
آپ نے فرمايا امام خمينی كے اطمئنان و سكون اور آہنی ارادےكا سبب خاص طورسے نہايت حساس حالات یہانتك كہ رحلت كےوقت بھی خدا سے یہی اتصال و رابطہ تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمايا كہ حق كے راستے پرگامزن رہنا ،منہ زورطاقتوں كے مقابل ڈٹے رہنا اور آزادی و ترقی كا حصول قربانی چاہتاہے آپ نے فرمايا كہ كسی قوم كے لۓ اپنے اھداف اور حقوق حاصل كرنے كی واحد راہ بصيرت و آگہی پر استوار استقامت ہے آپ نے فرمايا كہ كوئی قوم تسلط پسند طاقتوں سے التجاكركےان كے سامنے پسپائی اختياركركےاور نرمی دكھاكر اپنے حقوق حاصل نہیں كرسكتی كيونكہ حق كوشش و استقامت سے حاصل كيا جاتاہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ايرانی قوم كی پائيداری اور جدوجھد كو اسلامی حكومت كے استحكام اور قومی وقاروخودمختاری كا سب سے اہم سبب قرار ديا اور فرمايا ايرانی قوم كی استقامت اور بصيرت كے سبب دنيا كی منہ زور طاقتیں اس نتيجے پر پہنچی ہیں كہ جہاں بھی حق وحقيقت اور اپنے حقوق كا دفاع ضروری ہوتاہے ايرانی قوم ہرگز پسپائی اختيارنہیں كرتی ۔
ولی امر مسلمين نے فرمايا كہ قومی سطح پر ايرانيوں كی استقامت كا جاری رہنا تمام ميدانوں بالخصوص ایٹمی ميدان میں ان كے حقوق كے حصول كا باعث ہوگا اور یہ كہ ايران كی آزاد وخود مختار قوم كی روش یہ نہیں ہے كہ وہ ایٹمی حقوق سميت اپنے ديگر حقوق حاصل كرنے كے لۓ تسلط پسند طاقتوں سے التجاء كرے كيونكہ اس عظيم قوم اور اس كےآبرومند جوانوں نے اپنی صلاحيتوں پر يقين كرليا ہے اورگذشتہ اٹھائيس سال كے تجربوں سے انہیں یہ معلوم ہوچكا ہےكہ بصيرت پر استوار استقامت سے اپنے تمام حقوق حاصل كرسكتے ہیں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمايا كہ مشرق وسطی كے حساس علاقے میں اسلامی جمہوری حكومت امام خمينی كے اہم ترين اقدامات میں سے ايك ہے آپ نے دوسری عالمی جنگ كے بعد مشرق وسطی پرتدريجا سامراج كے مسلط ہونےپر تفصيل سے روشنی ڈالتے ہوۓ كہا كہ ايران بھی اس سياہ دورمیں سوفيصدی امريكی سامراج كے زير تسلط تھا اسی بناپر امام خمينی كے زير قيادت اسلامی انقلاب نے ساری تسلط پسند طاقتوں كو شديد حيرانی میں ڈال ديا البتہ بابصيرت افراد نے اسی وقت سمجھ لياتھا كہ ايران میں اسلامی حكومت كے قيام سے علاقے كےحالات كارخ بدل چكا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ايران كو ختم كرنے كی دشمنوں كی بے پناہ كوششوں كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ فرمايا كہ تمام سازشوں اور مخاصمانہ منصوبوں كے باوجود امام خمينی كے ہاتھوں قائم ہونے والی اسلامی جمہوری حكومت اس وقت علاقے كی مستحكم ترين حكومت ہے اور ملت ايران علاقے میں باوقار ترين اور فولادی ارادےكی حامل قوم ہے آپ نے فرمايا امام خمينی اور اسلامی جمہوریہ ايران كا درخشان چہرہ مسلمان قوموں اور عالم اسلام كےنوجوانوں اور روشن خيال افراد كے درميان مزيد درخشان ہوتاجارہاہے ۔ آپ نے فرمايا كہ یہ عمل اور ملك كی ترقی اس وقت تك جاری رہے گی جب تك قوم امام خمينی كی بتائی ہوئی راہ پر گامزن رہے گی آپ نے فرمايا امام خمينی كی تحريك كے تين اھم محور اسلام، عوام اور جدت پسندی ہیں اور انہیں كبھی بھی فراموش نہیں كرناچاہیے ۔
آپ نے فرمايا كہ ايرانی حكومت كا اسلامی ہونا اس بات كی علامت ہےكہ یہ حكومت كسی ايك مذھب میں محدود نہیں ہے آپ نے تاكيد كی كہ گرچہ ايرانی حكومت كا سرچشمہ شيعی معارف ہیں ليكن حكومت كا اسلامی ہونا اسلام كے تمام مذاھب كے شامل ہونے كے معنی میں ہے اور اسلامی نظام حكومت نے كبھی بھی اپنی سرگرميوں كو ايك مذھب كے لۓ مخصوص نہیں كيا ہے اور اسی لۓ آج فلسطين كے سنی جوان لبنان كے شيعہ جوانوں كی طرح اسلامی جمہوریہ ايران سے اميد لگاے ہوۓ ہیں اور اسلامی نظام، پيكر امت اسلامی كے تمام اجزا واراكين كو فخرو عزت كا احساس عطا كرتا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے شرع مقدس اسلام كی پابندی كو ايرانی حكومت كے اسلام تشخص كا ايك اور پہلو قرارديا اور فرمايا كہ ہم نے اپنے اخلاقی اقداراور حكومت كے اجتماعی اور سياسی قوانين كو كتاب وسنت سے اخذكيا ہے اور اس پر ہمیں فخر ہے كيونكہ ہم اس بات پر يقين ركھتے ہیں كہ كتاب و سنت كوصحيح طرح سے سمجھنا اور ان كے اسرار ورموزكو كھلے ذھن اور اجتھادی روش سے درك كرنا آج كی فردی اور اجتماعی ضرورتوں كو پورا كرنے كے لۓ ضروری ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمايا كہ ايران كے اسلامی نظام كی دوسری خصوصيت عوامی ہونا ہے اور اس نظام حكومت میں عوام كی راے اس كے مطالبات حقيقی معنی میں فيصلہ كن ہوتے ہیں اور ان كی ضرورتیں پوری كرنا حكام كا اولين فريضہ ہے ۔
آپ نے فرمايا كہ اسلامی نظام عوام كی مادی معنوی اور اخلاقی ضرورتوں كا بھرپورخيال ركھتا ہے اور اسلامی نظام میں عوام كی معيشتی ،امن وتحفظ وسلامتی ،اخلاقی سلامتی نيزخاندان كی حفاظت كی ضرورتوں پر خاص توجہ كی جاتی ہے آپ نے فرمايا كہ اسلامی نظام مغرب كی لبرل ڈيموكريسی كے غلط اور شكست خوردہ نظريات كو مسترد كرتا ہے كيونكہ مغرب كی آمرانہ اور ظالمانہ حكومتوں میں عوام كو كوئی اھميت حاصل نہیں ہے اور درحقيقت سارے فيصلے اصحاب اقتدار اور سرمایہ دار كرتے ہیں۔
قائدانقلاب اسلامی نےفرمايا كہ اسلامی نظام كی تيسری خصوصيت اسلامی تعليمات كے مطابق جدت پسندی اور نوآوری ہے آپ نے تاكيد كی كہ ملك كے دانشوروں كو كتاب وسنت كےمطابق حقيقی اسلام كوملك اور بيرون ملك میں حقيقت كے تشنہ افراد كے سامنے پيش كرنا چاہیۓ۔
آپ نے فرمايا كہ عالمی سامراج اپنے ذرايع ابلاغ كے سہارےملت ايران اور اسلامی نظام كی تصوير مسخ كركے پيش كرنے كی كوشش كررہا ہے ليكن مختلف خطروں اور چيلنجوں كے مقابل ملت ايران كی استقامت ،اصول كے تحفظ اور صحيح راہ پر گامزن رہنا نيز سائنس اورٹكنالوجی كے ميدانوں میں حيرت انگيزكاميابيوں اسی طرح سياسی اور سماجی ميدانوں میں كاميابيوں سےعالمی سطح پر ملت ايران كی عزت ووقار میں اضافہ ہوا ہے اور ملت ايران مسلمانوں كے لۓ ايك مثالی قوم بن گئی ہے اوریہی اس كی حقيقی تصوير ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ايران كے ممتاز تشخص كو امام خمينی اور ملت ايران كی استقامت كا نتيجہ قرارديا اوراس راہ كو جاری ركھنے كے سلسلے میں حكام اور عوام كی سنگين ذمہ داريوں پر تاكيد كرتے ہوۓ فرمايا جيسے كہ ہم نے (شمسی) سال كے آغاز میں كہاتھاكہ سائنسی اور اقتصادی ميدانوں میں ترقی كی كوششیں ،قومی اتحاد میں خلل ڈالنے كی غرض سے جاری دشمن كی نفسياتی جنگ كا مقابلہ وہ تين بنيادی محورہیں جن پرحكام اور عوام كو خاص توجہ دينی ہوگی۔
آپ نے فرمايا عدل و انصاف پر عمل اور عدل و انصاف فراہم كرنا حكام سے عوام كا بنيادی مطالبہ ہے اور اقتصادی ميدان میں سرگرم افراد كو سرمایہ كاری ،صنعتی ميدان میں جدت اور زراعت كو بڑھاوادينے كے ساتھ ساتھ ديگر متعلقہ امور میں ترقی كے لۓ كوششیں كرنی چاہئیں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے تفرقہ اوراختلافات پھيلانے كی دشمنوں كوششوں كے مقابل ہوشياری كی ضرورت پر تاكيد كرتے ہوۓ كہا كہ روان سال كے آخرمیں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور دشمن انتخابات كے مسئلہ كے سہارے عوام میں تفرقہ ڈالنے كی كوشش كرے گا ليكن ملت ايران ان عام انتخابات كو ايك بار پھر اپنی عزت و ترقی كے ذريعے میں تبديل كردے گی ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے شيعہ اورسنی مسلمانوں كے درميان جنگ شروع كرانے كی دشمنوں كی گھناونی سازش كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ اسلامی اتحاد كو بنيادی ضرورت قرارديا آپ نے فرمايا امت اسلامی كے دشمنوں نے ايك متعصب رجعت پسند اور اسلامی حقائق اور روحانيت سے بے خبرگروہ تشكيل ديا ہے تاكہ وہ مسلمانوں كے درميان جنگ و خونريزی كا بازار گرم كرے ليكن اسلام كے حقيقی علماء كی نظر كے مطابق جوبھی اپنے ہاتھوں كو مسلمانوں كے خون سے رنگتاہے وہ ناقابل معافی گناہ كا مرتكب ہوتاہے اور درحقيقت یہ كام اسلام سےخارج ہونے كا سبب ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے تاكيد كی كہ مسلمان قوموں سے ملت ايران كی دوستی حقيقی دوستی ہے اور مسلمانوں كو فكری اور مذھبی اختلافات كے باوجود لاالہ الااللہ ومحمد رسول اللہ كے پرچم تلےمتحد ہوكر دشمنوں كے مقابل ڈٹ جانا چاہیۓ۔
آپ نے فرمايا كہ ملت ايران كا مستقبل ماضی كی نسبت بے حد تابناك ہے اور ابھی اھداف ومقاصد كے حصول كے لۓ طويل راستہ طے كرنا باقی ہے تاہم عظيم ايرانی قوم استقامت حقيقت پسندی اورآگہی كی بركت كے سہارے كاميابی سے یہ راہ طے كرلے گی اور امام خمينی كے بتاۓ ہوۓ راستے پرچلتے ہوۓ اپنے روشن مستقبل تك بھی پہنچ جاے گی ۔