ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)كی رپورٹ كے مطابق امور مساجد كمیٹی كے اراكين اور تہران كے ائمہ جماعات نے اية الله مكارم شيرازی سے ملاقات كی جس میں معظم لہ نے فرمايا كہ میں نے كچھ مدت پہلے ايرانی وزير خارجہ كو ايك خط لكھ كر اس صورت حال پر تنقيد كی تھی، خط كے جواب میں مجھے یہ لكھا گيا كہ سعودی عرب كے حكام نے اس سلسلے میں كچھ وعدے كئے ہیں ليكن مجھے یہ رپورٹ ملی ہے كہ وہاں اہانت میں مزيد شدت پيدا ہو گئی ہے۔
مكارم شيرازی نے كہا كہ افسوس كی بات یہ ہے كہ فارسی زبان میں ايرانی زائر ين كی توہين كی جاتی ہے اور چند روز قبل بقيع كے كنارے ايك مرجع تقليد كی بھی اہانت كی گئی ہے۔
انھوں نے مزيد كہاكہ اسلامی جمہوریہ ايران كے عہدے داران سعودی عرب كے حكام كی باتوں پر اكتفانہ كریں ، اگر یہی صورت حال رہی تو خدا كی قسم ايسا عمرہ عالم تشيع كے نفع میں نہیں ہے اور اگر ہم مجبور ہوں گے تو تمام مراجع كے اتفاق سے عمرہ كو حرام قرار ديدیں گے ۔
آية امكارم شيرازی نے كہا كہ وہ لوگ یہ تصور كرتے ہیں كہ اس طرح كی اہانت سے شيعيت كی بڑھتی ہوئی ترقی كو روك لیں گے تو انھیں جاننا چاہئے كہ شيعيت كی عظمت میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔
137613