بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ كی رپورٹ كے مطابق ٫٫ حاكميت ، حضرت علی علیہ السلام كی نظر میں ٬٬ كے موضوع پر ايك كانفرنس ۲۶ دسمبر ۲۰۰۷ ء كو شروع ہوا ۔
اس كانفرنس میں خطاب كرتے ہوۓ آيت اللہ خز علی نے كہا كہ سورہ مائدہ كی آيت نمبر ۵۵ كو حضرت امير المٶمنين علی علیہ السلام كی ولايت پر بہترين دليل قرار ديا ۔ انہوں نے كہا كہ اس آيت میں ارشاد خداوندی ہے ٫٫ انما وليكم اللہ و رسولہ و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلاة و یٶتون الزكاة و ھم راكعون ٬٬ آپ كا ولی خدا اس كا رسول اور وہ ہے جو نماز قائم كرتا ہے اور ركوع كی حالت میں زكوة ديتا ہے ۔
در حقيقت خدا وند عالم كے نزديك ولايت سب سے مھم اور اولی ہے اور خداوند عالم اس ولايت كا حق دار اس كو قرار ديتا ہے كہ جس كی وہ خود تائيد كرے ۔
آيت اللہ خز علی نے حديث ثقلين كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ اس متواتر حديث سے معلوم ہوتا ہے كہ معصوم آئمہ علیھم السلام اپنی طرف سے كچھ بھی نہیں كہتے تھے بلكہ جو بھی احاديث اور روايات ان سے منقول ہیں وہ قرآن كريم اور كلام رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اخذ كی گئی ہیں اس وجہ سے ان كا كلام خطا سے پاك ہے اور ہم سب كے لیے حجت ہے ۔
انہوں نے سورہ نخل كی آيت نمبر ۷۸ ٫٫ و اللہ اخرجكم من بطون امھاتكم لا تعلمون شيا و جعل لكم السمع و الابصار و الافئدة لعلكم تشكرون ٬٬
خدا نے تم كو اپنی ماٶں كے شكم سے اس حالت میں نكالا كہ تم كچھ بھی نہیں جانتے تھے اور تمہارے لیے كان ، آنكھیں اور دل بنايا تاكہ تم شكر ادا كرو ، كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ كان اور آنكھ جيسی نعمتیں خدا نے اس لیے عطا كی ہیں تا كہ ان كے ذريعے خدا كی آيات كا مشاہدہ كيا جا سكے ۔
اور اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام كا كردار اور عمل تمام آئمہ علیھم السلام كے لیے مورد توجہ ہے ۔
آيت اللہ خز علی نے اپنی گفتگو كے اختتام پر حديث ، تسمع ما اسمع و تری ما اری ٬٬ جو كچھ میں سنتا ہوں آپ بھی سنتے ہیں اور جو كچھ میں ديكھتا ہوں وہ آپ بھی ديكھتے ہیں ، كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت كے آغاز میں ۴۰ سال كی عمر میں یہ حديث حضرت علی كے بارے میں ارشاد فرمائی جبكہ اس وقت حضرت علی علیہ السلام كی عمر مبارك صرف ۱۰ سال تھی ۔
اس معلوم ہوتا ہے كہ حضرت علی علیہ السلام ، نبوت كے علاوہ باقی سب چيزوں میں پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جيسے تھے ۔
206410