{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق حوزہ نيوز سنٹر كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ حجة الاسلام و المسلمين محمد جواد فاضل لنكرانی نے دينی مدارس میں بعض طلاب كے مسائل كی طرف توجہ دلاتے ہوۓ كہا كہ بعض طلاب كی مشكل یہ ہے كہ وہ دينی علوم كو دنياوی علوم سے تقابل كرتے ہوۓ تحصيل علم سے منصرف ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ دوسرے علوم كی ايك ذاتی حيثيت ہے جبكہ دينی علوم كا دوسرے علوم سے تقابل كرنا ان علوم پر ظلم ہے اور اساتذہ كو چاہیے كہ وہ ايسے تقابلی جائزہ كا سد باب كریں ۔ انہوں نے ماہرين نفسيات كے نا اميد كرنے والے بيان پر رد عمل ظاہر كرتے ہوۓ كہا كہ طلاب كی ذمہ داری ہے كہ وہ تزكیہ نفس كے ذريعہ ياس اور نا اميدی كا مقابلہ كریں ۔ انہوں نے مزيد كہا كہ دينی علوم كی كوئی انتہا نہیں ہے اور وہ بزرگ علماء جو اس راہ میں كامياب ہوۓ ان كا كہنا ہے كہ ان علو م كے لیے عمر انسان نا كافی ہے انہوں نے اساتذہ كو ان كی ذمہ داريوں كی طرف متوجہ كرتے ہوۓ كہا كہ يونيورسٹی میں رائج علوم كے لیے ايك حد معين كی گئی ہے ليكن فقہی علوم اس قدر وسيع ہیں كہ ان كے لیے اگر ايك طالب علم ايك موضوع پر پوری عمر كام كرۓ تب بھی كم ہے ۔ انہوں نے كہا كہ طلاب ہی دينی علوم كی اہميت كو درك كر سكتے ہیں لہذا وہ لوگ جو ان علوم كو ذريعہ بنا كر كوئی مقاصد حاصل كرنا چاہتے ہیں انہیں اپنے رویہ پر نظر ثانی كرنا ہو گی ۔جناب فاضل لنكرانی نے انقلاب اسلامی ايران كو انہی دينی علوم كا مرہون منت قرار ديا ۔
216821