زمانہ غيبت میں شيعوں كا اہم ترين فريضہ انتظار ہے

IQNA

زمانہ غيبت میں شيعوں كا اہم ترين فريضہ انتظار ہے

سياسی و سماجی گروپ: حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشريف كے زمانہ غيبت میں شيعوں كا اہم ترين فريضہ حضرت كے ظہور كا انتظار ہے۔
ھئيت عاشقان مھدی كرمان كے سربراہ حجة الاسلام سيد محسن موسوی نے ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا'' شعبہ كرمان سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ شيعوں كے مختلف فرائض ہیں انھیں چاہیے كہ حضرت كے ظہور كے مقدمات فراہم كریں اور یہ سمجھنے كی كوشش كریں كھ امام زمانہ ﴿عج﴾ كے ظہور كی تاخير كا واقعی سبب كيا ہے۔ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام كی ايك روايت نقل كرتے ھوئے كھا كہ حضرت ﴿ع﴾ نے فرمايا : غيبت كبری كے زمانے میں شيعوں كی تين اہم فرائض ہیں ان میں سب سے زيادہ اہم یہ ہے كہ ''فلينتظر'' يعنی صحيح طريقے سے انتظار كرنا ھے ۔ يعنی كسی بھی وقت ہم امام زمانہ سے غافل نہ ہوں ہر وقت ان كے ظہور كے انتظار میں رہیں۔ جناب سيد محسن موسوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام كا ارشاد گرامی نقل كرتے ہوئے كہا كہ زمانہ غيبت میں شيعوں كا ايك فريضہ ورع اختيار كرنا ہے اورورع، زھد اور تقوی سے ايك درجہ بالاتر ہے۔ انھوں نے كہا كہ جو لوگ حضرت كے ظہور كا انتظار كرنے والے ہیں ۔وہ ورع ركھتے ہیں اور كوئی شبھہ ناك عمل بھی انجام نہیں ديتے۔ جناب موسوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام كا قول نقل كرتے ہوئے كہا كہ غيبت كے زمانے میں شيعوں كی تيسری ذمہ داری یہ ہے كہ وہ اخلاق حسنہ كے مالك ہوں۔ اور اخلاق حسنہ دين كا اہم ترين مسئلہ ہے مسلمان اور شيعوں كو اچھے اخلاق كی رعايت كركے حضرت كے ظہور كے مقدمات كو فراہم كرنا چاہیے۔
241879