رہبر معظم سے عراقی وزير اعظم نوری مالكی اور اس كے ہمراہ وفد كی ملاقات

IQNA

رہبر معظم سے عراقی وزير اعظم نوری مالكی اور اس كے ہمراہ وفد كی ملاقات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج عراقی وزير اعظم نوری المالكی اور اس كے ہمراہ وفد كے ساتھ ملاقات میں عراق كی موجودہ اہم اور اصلی مشكل غيرملكی غاصب افواج كی موجودگی كو قرارديتے ہوئے فرمايا:
ہمیں يقين ہے كہ عراقی عوام اپنی ہمت اور اتحاد كے ذريعہ ان دشوار شرائط سے عبور كركے اپنے اچھے اور شائستہ مقام تك پہنچ جائیں گے اور قطعی طور پر عراق كے لئے امريكيوں كا خواب شرمندہ تعبير نہیں ہوگا۔

رہبر معظم نے جمہوری اسلامی ايران كی طرف سےعراقی عوام اور حكومت كی مدد كو ايك مذہبی اور دينی فريضہ قرارديتے ہوئے فرمايا: عراق كے وزير اعظم كا تہران كا دورہ اور اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے ايران اور عراق كے روابط كو مزيد مضبوط اور مستحكم كرنے میں مددگار ثابت ہونگے۔

رہبر معظم نے جناب نوری مالكی كی طرف سے عراق كے مختلف مذاہب اور قبائل كے درميان اتحاد و يكجہتی كی فضا اور كلمہ وحدت كی طرف ان كی حركت كے بيان كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: عراق میں وحدت اور يكجہتی كی سمت حركت بہت بڑی كاميابی ہے ليكن اس وحدت كے كچھ لوگ دشمن بھی ہیں جو درحقيقت عراقی عوام اور عراقی حكومت كے بھی دشمن ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق میں غاصب فوجيوں بالخصوص امريكی فوجيوں كی موجودگی كو كسی بھی معاہدے اوروحدت كلمہ كو درہم و برہم كرنے كا اصلی عامل قرارديتے ہوئے فرمايا: وہ غاصب طاقتیں جواپنی سكيورٹی اور فوجی طاقت كے ذريعہ عراق كے اندرونی معاملات میں مداخلت كرتی ہیں اور كسی حق كے بغير عراقی ممتاز شخصيات ، عوام اور حكومت سے طلبگار بھی ہیں اور یہی سامراجی طاقتیں عراق كی پيشرفت اور اس كی سلامتی كے لئے سب سے بڑی ركاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رہبر معظم نے عراق میں امريكہ كے موجودہ كردار كو عراق كے استقلال كے بعد عراق میں اختلافات پيدا كرنے كے سلسلے میں برطانیہ كے كردار سے تشبیہ كرتے ہوئے فرمايا: البتہ امريكی كچھ زيادہ ہی بے شرمی كے ساتھ وحدت كلمہ اوراتحاد و يكجہتی كےمخالف ہیں ۔

رہبر معظم نے فرمايا: عراق كے تمام مؤثر اور بانفوذ افراد كو اس اصلی مشكل سے نجات حاصل كرنے كے لئے بنيادی فكر اورتلاش وكوشش كرنا چاہیے اور عراقی حكومت و پارليمان اور اعلی حكام جو عوام كی رائے سے منتخب ہوئے ہیں انھیں عراق كے تمام مسائل اور امور پر مكمل كنٹرول ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: كسی بھی غير ملكی طاقت كو یہ حق نہیں ہے كہ وہ بتدريج عراق كے تمام امور میں مداخلت كرے اور آہستہ آہستہ اپنے تسلط كو اس ملك كے مختلف شعبوں پر قائم كرنے كی كوشش كرے ان كا یہ اقدام عراق كی سعادت و پيشرفت میں سب سے بڑی ركاوٹ ہوگا۔

اس ملاقات میں نائب صدر آقای داؤدی بھی موجود تھے عراق كے وزير اعظم نوری المالكی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی سے اپنی دوبارہ ملاقات پر اظہار مسرت كيا اور مختلف حالات میں ايران كی جانب سے عراقی عوام كی بے دريغ حمايت اور مدد پر شكریہ ادا كيا۔ انہوں نے كہا : عراق ايران كے ساتھ بہترين تعلقات كو فروغ دينے كاخواہاں ہے۔
عراقی وزير اعظم نے ملك كےتازہ حالات اور مسائل بالخصوص جار بحران پر قابو پانے كے لئے عراقی حكومت كی جانب سے كی جانے والی كوششوں كی تفصيلات بتاتے ہوئے كہا : عراق میں روزانہ ہونے والےقتل عام جيسے واقعات اور ديگر مسائل كسی حد تك كم ہو گئےہیں تاہم دوسرے بہت سے مسائل اب بھی موجود ہیں ليكن عراقی حكومت اور پارليمنٹ ملك كے اقتدار اعلی اور آزادی و خود مختاری كی بحالی كے لئے عزم مصمم كئے ہوئے ہے۔
عراقی وزير اعظم نے كہا: عراق كےاعلی حكام، ملك كے تمام مذاہب ، قبائل اور عوام عراق كی عزت و استقلال اور اس كی پيشرفت و ترقی كی سمت گامزن رہنے میں ايك زبان اور متفق ہیں۔
منبع: http://www.leader.ir/langs/ur/index.php?p=contentShow&id=3918