آيت اللہ جنتی: اسلام میں غيبت كی حرمت كا فلسفہ وحدت كی حفاظت ہے

IQNA

آيت اللہ جنتی: اسلام میں غيبت كی حرمت كا فلسفہ وحدت كی حفاظت ہے

سياسی گروپ: معاشرے میں لوگوں كا ايك دوسرے پر اعتماد وحدت میں مؤثر كردار ادا كرتا ہے اور محققين كی نظر میں اسلام میں غيبت كو اس لیے حرام قرار ديا گيا ہے تا كہ وحدت كو حفظ كيا جا سكے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق تہران میں گزشتہ نماز جمعہ كے پہلے خطبے سے خطاب كرتے ہوئے آيت اللہ جنتی نے ماہ رجب كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ رجب كا مہينہ، ماہ مبارك رمضان میں داخل ہونے كا مقدمہ ہے۔ انھوں نے جوانوں كو نصيحت كرتے ہوئے كہا كہ اميرالمؤمنين علی بن ابی طالب ﴿ع﴾ كے فرمان كےمطابق ماہ رجب میں بہترين علم حرام الہی سے اپنے آپ كو بچانا ہے۔ آيت اللہ جنتی نے غيبت كے بارے میں گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ غيبت ايسا گناہ ہے كہ جس كی قرآن مجيد میں بہت مذمت كی گئی ہے اور غيبت كرنے والے كو اس شخص سے تشبیہ دی گئی ہے كہ جس نے اپنے مردہ بھائی كا گوشت كھايا ہو۔ انھوں نے كہا كہ اگر ہم غيبت كرنے والے شخص كو غيبت كرنے سے نہیں روكتے تو اس كا نتيجہ یہ ہوتا ہے كہ ہمارا شمار بھی غيبت كرنے والوں میں ہونے لگتا ہے۔ تہران میں نماز جمعہ كے خطيب نے كہا كہ غيبت سننے سے ان افراد كے بارے میں كہ جن كی غيبت كی جا رہی ہے انسان كا ذہن بد بين ہو جاتا ہےاورباھمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ انھوں نے نمازيوں كو نصيحت كی كہ معاشرے میں وحدت كی خاطر غيبت كو ترك كریں اور ہربات كو قبول نہ كریں اور ياد ركھیں كہ بغير علم كے كوئی بات كرنا گناہ ہے۔
267913