علمائے بلخ نے افغانستان میں دينی مراكز كےانہدام كی مذمت كی ہے

IQNA

علمائے بلخ نے افغانستان میں دينی مراكز كےانہدام كی مذمت كی ہے

سياسی وسماجی گروپ: افغانستان كے صوبہ بلخ كے دينی علماء نے اس ملك میں دينی مراكز كو منہدم كرنے كی مذمت كی اور افغانستان كی وزارت معارف كو اپنی حمايت كا يقين دلايا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" شعبہ افغانستان كی رپورٹ كے مطابق صوبہ بلخ كےدينی مدارس كے آٹھ سو سے زائد علماء اور طلباء نے شہر مزار شريف كی مسجد جامع میں ايك اجتماع كر كے اس ملك كی وزارت تعليمات كی حمايت كا اعلان كيا اور حكومت افغانستان كے مخالفين كی طرف سے دينی مراكز كو منہدم كرنے كی ہر كوشش كی مذمت كی اور اسے اسلامی اصولوں كے خلاف قرار ديا۔ اس اجتماع كو منعقد كرنے والے عہدہ داروں میں سے ايك عہدہ دار مولوی " رحمت اللہ يكتن" نے مكتب اسلام میں علم و دانش كی اہميت بيان كرتےہوئے كہا كہ جو شخص بھی دوسروں كے علم حاصل كرنے میں آڑے آتا ہے وہ نہ فقط دوسروں كے حقوق كو پامال كرتا ہے بلكہ قرآن كريم كی رو سے اس كا یہ كام قابل مذمت ہے۔ انھون نے مزيد كہا كہ حكومت افغانستان كی كوشش ہے كہ دينی علوم كے علماء كے تعاون سے طلباء كے لیے دينی علوم كے مواقع فراہم كیے جائیں اور دينی علوم كے طلباء كو دوسرے ملك میں بھيجنے سے اجتناب كيا جائے۔
287100